Urdu book · سفر حیات

موت: ایک خدائی منصوبہ

Urdu book, p. 53

By Maulana Wahiduddin Khan

موت: ایک خدائی منصوبہ قرآن کی تین سورتوں میں یہ آیت آئی ہے: كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ (3:185)۔ ہر شخص کو موت کا مزہ چکھنا ہے: Every human being is bound to taste death قرآن کا یہ بیان پوری انسانی تاریخ میں ایک واقعہ ثابت ہوا ہے۔ دولت، طاقت، سیاسی اقتدار، کوئی بھی چیز انسان کو موت سے بچانے والی نہ بن سکی۔ ہر پیدا ہونے والا انسان ایک مقرر مدت کے بعد لازمی طور پر مر جاتا ہے۔ موت سے بچنا کسی بھی شخص کے لیے ممکن نہ ہو سکا۔ اگر ایسا ہوتا کہ انسان اتفاقاً پیدا ہوا اور اتفاقاً مر جائے تو کچھ لوگ مرتے، اور کچھ لوگ لمبی مدت تک زندہ رہتے۔ لیکن موت کے معاملے میں کسی فرد کا استثنا نہ ہونا ثابت کرتا ہے کہ موت کا معاملہ کوئی اتفاقی معاملہ نہیں، بلکہ وہ فطرت کی منصوبہ بندی (planning) کا معاملہ ہے۔ یہ خالق کا سوچا سمجھا فیصلہ ہے، وہ بے سبب ہونے والا کوئی واقعہ نہیں۔ موت کا ایک خدائی منصوبہ ہونا، مزید یہ ثابت کرتا ہے کہ زندگی اور موت ایک بامقصد ظاہر ہے۔ اور جب یہ مان لیا جائے کہ زندگی اور موت کے پیچھے ایک تخلیقی مقصد ہے تو اس کے بعد لازم ہو جاتا ہے کہ انسان اس مقصد کو دریافت کرے، اور اس کے مطابق اپنی تشکیل کرے۔ اسی میں انسان کی کامیابی چھپی ہوئی ہے۔ موت کا واقعہ بتاتا ہے کہ موجودہ دنیا کی تعمیر انسان کا نشانہ نہیں ہو سکتا۔ انسان کا نشانہ صرف وہ چیز ہو سکتی ہے جس میں زندگی اور موت دونوں کی توجیہہ موجود ہو، جس میں زندگی بھی بامعنی نظر آئے اور موت بھی بامعنی۔ پیغمبر اسلام نے فرمایا: أَكْثِرُوا ذِكْرَ هَادِمِ اللَّذَّاتِ، يَعْنِي الْمَوْت (ابن ماجہ، حدیث نمبر 4258)۔ یعنی موت کو بہت زیادہ یاد کرو، جو کہ لذات کو ڈھا دینے والی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ لذاتِ حیات کی بنیاد پر اپنا منصوبہ نہ بناؤ، بلکہ حقائق موت کی بنیاد پر اپنا منصوبہ بناؤ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page