Urdu book · سفر حیات

موت کا مثبت تصور

Urdu book, p. 57

By Maulana Wahiduddin Khan

سائنس کا اصول ہے کہ جو تصور حقائق سے زیادہ مطابقت رکھتا ہو، اس کو بطور واقعہ قبول کر لیا جائے گا اور جو تصور حقائق سے مطابقت نہ رکھتا ہو، وہ تصور غیر واقعی سمجھ کر رد کر دیا جائے گا اس پہلو سے دیکھیے تو منفی تصورِ موت قابلِ رد قرار پاتا ہے اور مثبت تصورِ موت قابلِ قبول ٹھہرتا ہے۔ کائنات پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں ہر چیز اپنے امکان (potential) کو واقعہ (actual) بنا رہی ہے۔ مثلاً درخت کا بیج اپنے امکان کو آخری حد تک واقعہ بنانے میں کامیاب ہوتا ہے۔ ایٹم اپنے امکان کو آخری حد تک واقعہ بنائے ہوئے، وغیرہ۔ یہ صرف انسان ہے جو اتھاہ امکان لے کر پیدا ہوتا ہے، لیکن وہ اپنے امکانات کو تکمیل تک پہنچائے بغیر مر کر دفن ہو جاتا ہے۔ انسان کے مائنڈ میں سولین، نلین، نلین پارٹکل ہیں۔ انسان کا مائنڈ اتھاہ امکانات کا خزانہ ہے، لیکن انسان اس امکان کو بمشکل چند فیصد استعمال کرتا ہے اور پھر موت اس کی زندگی کا خاتمہ کر دیتی ہے۔ موت کا مثبت تصور ہی موت کا حقیقی تصور ہے۔ کیوں کہ تمام متعلق حقائق (relvant data) اس کی تصدیق کرتے ہیں۔ موت کے مثبت تصور کا مطلب یہ ہے کہ موت زندگی کا خاتمہ نہیں، بلکہ موت ابدی زندگی میں داخلے کا دروازہ ہے۔ موت کے بعد آدمی اُس طویل تر مرحلۂ حیات میں داخل ہو جاتا ہے جہاں وہ اپنے خوابوں کی دنیا کو پاسکے۔ جہاں اس کو یہ موقع ہو کہ وہ اپنی ہستی کے اتھاہ امکانات کو بروئے کار لاسکے۔ موت کے مثبت تصور کا پیغام یہ ہے کہ موت سے پہلے کے مختصر مرحلۂ حیات میں اپنے اندر اُس ربانی شخصیت کی تعمیر کرو جو موت کے بعد کے مرحلۂ حیات میں تم کو تمھاری آرزوؤں کے مطابق، ابدی طور پر خوشیوں اور راحتوں کی دنیا میں جینے کا مستحق بنائے۔ لوگ موت کی طرف بڑھ رہے ہیں مگر لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ زندگی کا کامیاب سفر طے کر رہے ہیں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page