آخرت کا ائر پورٹ
Urdu book, p. 65
By Maulana Wahiduddin Khan
آخرت کا ایئر پورٹ ایک بار میں ہوائی جہاز سے سفر کرتے ہوئے ایک ایئر پورٹ پر اترا۔ میں اور دوسرے اکثر مسافر ضروری مراحل سے گزرتے ہوئے باہر آگئے، لیکن چند مسافر ایسے تھے جن کو ایئر پورٹ پر روک لیا گیا۔ اُن سے کہا گیا کہ آپ لوگ یہاں ٹھہریے، آپ لوگوں کی خصوصی چیکنگ ہوگی۔ ان افراد کے بارے میں کوئی خفیہ اطلاع ملی تھی، جس کی وجہ سے ایئر پورٹ کے عملہ نے اُن کے ساتھ ایسا کیا۔ ائر پورٹ پر یہ منظر دیکھ کر مجھے قرآن کی ایک آیت یاد آئی۔ وہ آیت یہ تھی: وَ قِفُوْهُمْ اِنَّهُمْ مَّسْئُوْلُوْنَ (37:24)۔ یعنی ان لوگوں کو ٹھہراؤ، ان سے کچھ پوچھنا ہے۔ غور کیجئے تو زندگی کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ انسان جس زمین پر آباد ہے، وہ اپنے محور پر ایک ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے مسلسل گھوم رہی ہے۔ گویا کہ ہم ایک ایسے ہوائی جہاز پر سوار ہیں جو تیز رفتاری کے ساتھ ایک ایئر پورٹ کی طرف چلا جا رہا ہے۔ یہ ایئر پورٹ آخرت کا ایئر پورٹ ہے۔ ایک وقت آئے گا، جب کہ تمام انسان آخرت کے ایئر پورٹ پر اتار دئے جائیں گے۔ یہاں یہ واقعہ ہوگا کہ کچھ لوگوں سے کہا جائے گا کہ تم یہاں ٹھہرو، تم سے ابھی پوچھ گچھ ہونے والی ہے۔ دوسری طرف، کچھ ایسے خوش نصیب لوگ ہوں گے جن کا استقبال فرشتے یہ کہہ کر کریں گے : سَلَامٌ عَلَيْكُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوْهَا خَالِدِينَ (39:73)۔ یہ صورت حال سارے انسانوں کے ساتھ پیش آنے والی ہے۔ دنیا کے سفروں کا وقت مقرر رہتا ہے، لیکن آخرت کے اس سفر کا وقت مقرر نہیں۔ کسی بھی لمحہ انسان کے اوپر وہ وقت آ سکتا ہے، جب کہ زندگی کا جہاز آخرت کے ایئر پورٹ پر اتر جائے اور پھر وہاں کچھ لوگ پوچھ گچھ کے لیے روک لئے جائیں اور کچھ لوگوں کو فرشتے خوش آمدید کہتے ہوئے جنت میں داخل کر دیں۔ بلاشبہ یہی وہ سب سے بڑی بات ہے جس پر ہر عورت اور مرد کو سوچنا چاہئے، اور جس کے مطابق اپنی زندگی گزارنا چاہیے۔ آنے والا وقت اعلان کے بغیر کسی بھی وقت آجائے گا اور پھر کسی کے لیے یہ موقع نہ ہوگا کہ وہ لوٹ کر دوبارہ پیچھے کی طرف جا سکے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader