ابدی صحرا
Urdu book, p. 67
By Maulana Wahiduddin Khan
ابدی صحرا نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمز آف انڈیا میں ایک سبق آموز واقعہ نظر سے گزرا۔ ممبئی کے ایک ایکٹر آنند سوریاوشی (Anand Suryavanshi) نے اپنی بڑی موٹر کار گورے گاؤں (ممبئی) میں پے اینڈ پارک ایریا(pay-and park area) میں کھڑی کی۔ کچھ دیر کے بعد جب وہ واپس آئے تو ان کی کار وہاں موجود نہ تھی، وہ چوری ہو چکی تھی۔ انھوں نے اخبار کے رپورٹر آلیورا (Roshni Olivera) کو بتایا کہ اس کار میں میری تمام ذاتی چیزیں موجود تھیں۔ مثلاً لیپ ٹاپ، قیمتی اسٹون رنگ، ڈی وی ڈیز (DVDs)، سی ڈیز (CDs)، شوٹنگ کے کپڑے، موبائل فون، اور پرسنل ڈائری، وغیرہ۔ مسٹر آنند نے کہا کہ میں ان چیزوں سے جذباتی طور پر وابستہ تھا: I was emotionally attached to them. اس قسم کی تفصیلات کو بتاتے ہوئے انھوں نے دکھ بھرے لہجے میں کہا کہ ـــــ اس حادثے کے بعد مجھے ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے کہ میں اچانک کسی ویران جزیرے میں آ کر پھنس گیا ہوں: I feel like I am stranded on some island (TOI, Feb 9, 2008, p. 4) یہی معاملہ زیادہ بڑے پیمانے پر آخرت میں پیش آئے گا۔ موت کے پہلے کی زندگی میں آدمی ہر قسم کے ساز و سامان میں جیتا ہے۔ مکان، گاڑی، اولاد، بزنس، شہرت، بینک بیلنس، وغیرہ۔ موت کے بعد کی زندگی میں آدمی اچانک اپنے آپ کو ایک نئی دنیا میں پائے گا۔ یہاں وہ پوری طرح اکیلا ہوگا۔ اس کے تمام مادی سامان اُس سے چھوٹ چکے ہوں گے۔ اُس کے پیچھے وہ دنیا ہوگی جس کو وہ ہمیشہ کے لیے چھوڑ چکا۔ اُس کے آگے وہ دنیا ہوگی جہاں اُس کے لیے ابدی صحرا کے سوا اور کچھ نہیں۔ موت سے پہلے آدمی اس آنے والے دن کے بارے میں سوچ نہیں پاتا۔ موت کے بعد اچانک یہ دن آ جائے گا۔ اُس وقت انسان سوچے گا، لیکن اس کا سوچنا اس کے کام نہ آئے گا۔ سب سے بڑی عقل مندی یہ ہے کہ آدمی اس آنے والے ہول ناک دن کی تیاری کرے ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader