Urdu book · سفر حیات

خاتمہٴ حیات

Urdu book, p. 79

By Maulana Wahiduddin Khan

خاتمہ حیات ایک ایسے انسان کو لیجئے جو 50 سے زیادہ عمر پا کر مرا ہو۔ وہ اس وقت اپنی زندگی کے تکمیلی مرحلہ میں ہوتا ہے۔ علم، تجربہ، اور تیاری کے مختلف مراحل سے گزر کر اس وقت وہ ایک پختہ انسان بن چکا ہوتا ہے۔ عین اس وقت موت کا فرشتہ آتا ہے اور اس کو اس طرح صفحہ سے مٹا دیتا ہے جیسے کہ وہ باغ حیات کا ایک غیر مطلوب درخت تھا جس کو بے رحمانہ طور پر کاٹ دیا گیا۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب کہ انسان اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ زیادہ پختہ دماغ سے سوچے ۔ وہ زیادہ معنویت کے ساتھ کائنات کے نغموں کو سنے، وہ زیادہ لطافت کے ساتھ دنیا کے ذائقوں کو چکھے۔ اس وقت وہ اس پوزیشن میں ہوتا ہے کہ زیادہ کامیاب کلام کرے۔ زیادہ اعلیٰ نوعیت کی تحریریں تخلیق کر سکے۔ وہ ان تمام کاموں کو زیادہ معیاری سطح پر انجام دے جن کو اپنی نا پختگی کی بنا پر اب تک وہ صرف غیر معیاری انداز میں انجام دے رہا تھا۔ یہی اس دنیا میں ہر انسان کی کہانی ہے۔ یہاں ہر انسان صرف اپنے مرحلہ نشوونما تک زندہ رہتا ہے۔ اس کے بعد جب وہ اپنی زندگی کے آخری تکمیلی مرحلہ میں پہنچتا ہے تو وہ انتہائی بے بسی کے ساتھ اپنی زندگی کی کہانی کا یہ المناک منظر دیکھتا ہے کہ اس کو اچانک اسٹیج سے ہٹا دیا گیا۔ تاہم زندگی کا یہ انجام صرف اس وقت ایک المیہ ہے جب کہ موت کو زندگی کا خاتمہ سمجھا جائے ۔ مگر اصل حقیقت یہ ہے کہ موت زندگی کا خاتمہ نہیں بلکہ وہ ایک نئے دور حیات کا آغاز ہے۔ اس تصور کے مطابق زندگی کا موجودہ مرحلہ گویا کہ تربیتی مرحلہ ہے اور موت کے بعد کا مرحلہ تربیت یافتہ صلاحیتوں کے استعمال کا مرحلہ۔ جو لوگ اس حقیقت کو پالیں ان کے لئے موجودہ تربیتی مرحلہ بھی با معنی ہے اور بعد کا مرحلہ بھی با معنی۔ جب کہ وہ تربیت یافتہ انسان کی حیثیت سے آخرت کے اعلی مواقع کو استعمال کر کے اپنے لیے ایک پر مسرت زندگی کی تعمیر کر سکیں گے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page