موت: ایک عالم گیر قانون
Urdu book, p. 81
By Maulana Wahiduddin Khan
موت: ایک عالم گیر قانون نباتات، حیوانات اور انسان، تینوں موت سے دوچار ہوتے ہیں۔ ہر درخت آخر کار اپنی سرسبزی کھو دیتا ہے۔ ہر جانور پر ایک وقت آتا ہے جب کہ وہ ختم ہو جاتا ہے۔ اسی طرح ہر انسان جو اس دنیا میں پیدا ہوتا ہے وہ ایک روز مر جاتا ہے۔ موت اس دنیا کا ایک عالم گیر قانون ہے، جس سے کوئی بھی ذی حیات مستثنیٰ نہیں۔ مگر دوسری ذی حیات اشیاء کے برعکس، یہ صرف انسان ہے جو یہ جانتا ہے کہ کسی بھی لمحہ اس کی زندگی ختم ہو جائے گی۔ اور اگر اس کو زندگی کی پوری متوقع مدت مل جائے تب بھی لازماً اس کا جسم تنزل کا شکار ہو گا اور مقرر وقت پر وہ مر جائے گا۔ Unlike other living creatures, he knows that his life may be cut short at any moment and that, even if he attains the full expectation of a human life, his growth is bound to be followed by eventual decay and, in due time, death. (18/411) تمام ذی حیات اشیاء میں صرف انسان کے اندر موت کا تصور ہونا بے حد با معنی ہے۔ یہ استثناء بتاتا ہے کہ موت کا معاملہ انسان کے لیے اس سے مختلف ہے جو دوسری ذی حیات اشیاء کے لیے ہے۔ دوسری ذی حیات اشیاء کے لیے موت ایک بے خبری کا واقعہ ہے اور انسان کے لیے مکمل طور پر با خبری کا واقعہ۔ انسانی موت کی یہ استثنائی نوعیت اشارہ کر رہی ہے کہ انسان کے لیے موت کے ساتھ شعور موت بھی درکار ہے۔ انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ موت کا وقت آنے سے پہلے موت کے بارے میں سوچے، اور اس کا سامنا کرنے کے لیے پہلے سے تیاری کرے۔ دوسری ذی حیات اشیاء کے لیے موت سادہ طور پر خاتمہٴ حیات کے ہم معنی تھی، اس لئے ان کو اس کا شعور دینے کی ضرورت نہ تھی۔ مگر انسان کے لیے موت زندگی کا خاتمہ نہیں، وہ ایک نئے دور حیات کا آغاز ہے۔ اسی لئے ضروری ہوا کہ انسان کو پیشگی طور پر اس مرحلہٴ حیات سے آگاہ کر دیا جائے تاکہ وہ اس کے لئے ضروری تیاری کر سکے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ شعور کی موت مرے نہ کہ جانوروں کی طرح محض بے شعوری کی موت۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader