کوئی چیز ملکیت نہیں
Urdu book, p. 94
By Maulana Wahiduddin Khan
کوئی چیز ملکیت نہیں ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے، صحیح مسلم کے الفاظ یہ ہیں: يقول العبد: مالی، مالی، إنماله من ماله ثلاث: ما أكل فأفنى، أو لبس فأبلى، أو أعطى فأقتنى، وما سوى ذلك فهو ذاهب، وتار که للناس ( حدیث نمبر 2959) یعنی بندہ کہتا ہے کہ میرا مال، میرا مال۔ حالاں کہ اُس کے مال میں اس کے لئے صرف تین چیزیں ہیں_ جو اس نے کھایا اور ختم کر دیا یا جو اس نے پہنا اور بوسیدہ کر دیا یا جو اس نے صدقہ کیا اور وہ اس کے لئے ذخیرہ آخرت بن گیا۔ اس کے سوا جو ہے، وہ بہر حال چلا جانے والا ہے اور وہ اس کو لوگوں کے لئے چھوڑ دینے والا ہے۔ انسان جب پیدا ہوتا ہے، اور وہ دنیا میں زندگی گزارتا ہے تو وہ دیکھتا ہے کہ اس کے پاس کچھ سامان حیات ہے جو بظاہر اس کا اپنا ہے۔ وہ کوئی معاشی کام کرتا ہے جس کے ذریعے وہ کچھ مال کماتا ہے، وہ سمجھتا ہے کہ یہ مال میری کمائی ہے۔ مال یا مال کے ذریعے حاصل کی ہوئی چیزوں کے بارے میں اس کا یہ ذہن بنتا ہے کہ یہ تمام چیزیں میری اپنی ہیں، میں ان کا مالک ہوں، مجھے حق ہے کہ میں جس طرح چاہوں ان کو استعمال کروں۔ لیکن موت آدمی کے اس خیال کی مکمل تردید کر دیتی ہے۔ موت بتاتی ہے کہ آدمی کے پاس کوئی بھی چیز اس کی ذاتی چیز نہیں، اس کی کوئی بھی ملکیت اس کے پاس ہمیشہ ساتھ رہنے والی نہیں۔ موت آدمی کو اس کے مال اور اس کے تمام اسباب سے جدا کر دیتی ہے۔ موت کے بعد آدمی اچانک اکیلا ہو جاتا ہے۔ یہی زندگی کی سب سے بڑی حقیقت ہے۔ جو آدمی اس حقیقت کو دریافت کرلے، وہ اپنے مال کو یا اپنے اسباب کو اس طرح استعمال کرے گا جو موت کے بعد کی زندگی میں اس کے کام آنے والا ہو۔ اس حقیقت کو جانے بغیر اس کی زندگی دنیا رخی زندگی ہوتی ہے۔ لیکن اس حقیقت کو جاننے کے بعد اس کی زندگی آخرت رخی زندگی بن جاتی ہے۔ یہی وہ سب سے بڑی حقیقت ہے جو ہر آدمی کو جاننا چاہیے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader