لندن میں چند روز
Urdu book, p. 100
By Maulana Wahiduddin Khan
یہاں پیدائش کے بعد فوراً ہی بچہ کو حکومت سے وظیفہ لینے کا حق ہو جاتا ہے۔ خواہ وہ بچہ ایک ایسے ماں باپ کا ہو جو یہاں اپنے ملکی پاسپورٹ پر مقیم ہیں۔ آپ کو صرف ایک بار ضروری فارم لینے کے لئے متعلقہ دفتر جانا پڑے گا۔ آپ فارم پر کر کے بھیج دیجئے اور ڈاک سے آپ کے یہاں ہر مہینہ چک کے ذریعہ وظیفہ کی رقم آتی رہے گی۔ لندن کے لوگ اگرچہ ایشیائی لوگوں سے نفرت کرتے ہیں۔ مگر قانونی طور پر ان کے جو حقوق ہیں ان کو دینے میں کبھی ان کے ساتھ امتیاز نہیں برتا جاتا ۔ ایشیائیوں سے امتیازی سلوک کرنا اپنا نظام کو خراب کرنے کی قیمت پر ہوگا، اور وہ پسند نہیں کرتے کہ دوسروں کی ضد میں خود اپنے نظام کو خراب کر لیں ۔ ایشیائی لوگوں سے امتیاز کی بات مجھ سے یہاں کے کچھ ایشیائی لوگوں نے کہی۔ اس کے بعد میں نے اس کا ذکر ایک انگریز سے کیا۔ اس نے کہا کہ یہ جنرلائزیشن ہے۔ یعنی جزئی واقعات کو عمومی واقعات بنا دیا گیا ہے۔ اس نے کہا کہ انگریزوں کے اندر نسلی تعصب نہیں پایا جاتا۔ عام انگیز ایشیائی لوگوں کو بھی اسی نظر سے دیکھتا ہے جس نظر سے وہ خود اپنے درمیان ایک دوسرے کو دیکھتا ہے۔ پرانے انگریز جنہوں نے نو آباد یاتی زمانہ دیکھا ہے ان میں کچھ احساس برتری ضرور ہے۔ مگر نئی نسل کے نوجوانوں ایسا میں اب تک جن جن ملکوں میں گیا ہوں ، ان میں کم از کم ایرپورٹ پر مجھے سب سے زیادہ بہتر اخلاق کا ثبوت لندن میں ملا ہے ۔ مثلاً نیو یارک کے ایرپورٹ پر جن امریکی نوجوانوں سے میرا سابقہ پیش آیا ان میں سے اکثر کے اندر میں نے احساس برتری کی جھلک دیکھی۔ مگر لندن کے ہوائی اڈہ پر جو انگریز نوجوان ڈیوٹی پر تعین تھے ۔ انہوں نے ہمیشہ نرمی اور شرافت کا ثبوت دیا۔ ممکن ہے اس کی وجہ یہ ہو کہ انڈیا اور انگلستان کے درمیان تعلقات دوسرے تمام ملکوں کے مقابلہ میں زیادہ گہرے ہیں۔ اس کی ایک دلچسپ مثال یہ ہے کہ ہندوستان اور بیرونی دنیا کے درمیان ٹیلی فون کا ربط سب سے پہلے انگلینڈ کے واسطہ سے قائم ہوا۔ ایشیا اور یورپ کے یہ دو اہم ملک یکم مئی ۱۹۳۱ کو ٹیلی فون کے ذریعہ مربوط ہوئے ۔ آج بھی یہ حال ہے کہ ہندوستان سے بیرونی ٹیلی فون ٹرافک کا تقریباً چالیس فی صد حصہ لندن ہو کر گزرتا ہے۔ اس ٹیلی فون ربط کی پچاس سالہ تقریب ۳ مئی ۱۹۸۱ کو لندن اور نئی دہلی میں بیک وقت منائی گئی۔ اس موقع پر تقریب کا آغاز کرتے ہوئے وزیر اعظم مسز اندرا گاندھی نے وزیر اعظم انگلستان مسز مارگریٹ تھیچر سے ٹیلی فون پر بات کی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader