Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

لندن میں چند روز

Urdu book, p. 112

By Maulana Wahiduddin Khan

شراب لے جانا بالکل منع ہے ۔ ۲۳ مارچ کو جب کہ ہمارا جہاز ایک گھنٹہ کے لئے کویت کے ہوائی اڈہ پر کھڑا تھا، اس وقت ہمارے دو ساتھی کویت کے دورہ پر تھے۔ دہلی سے ٹیلی فون کی گفتگو میں ان کو میرا پروگرام بتایا جا چکا تھا۔ اگر ٹرین کی طرح ہوائی جہازوں پر بھی آکر ملنے کی اجازت ہوتی تو وہ ضرور اندر آکر مجھ سے ملاقات کرتے ۔ مگر ہوائی جہاز کے مخصوص قوانین کی وجہ سے ایسا ممکن نہ ہو سکا ۔ " ٹرین " بھی سواری ہے اور " ہوائی جہاز " بھی سواری۔ اس لفظی اشتراک کی بنا پر اگر کوئی شخص " پلیٹ فارم " ٹکٹ لینے کے لئے ہوائی اڈہ پہنچ جائے تو اس کے حصہ میں نا کام واپسی کے سوا اور کچھ نہیں آئے گا ۔ دہلی سے دبئی اور کویت تک کافی ہندوستانی مسافر جہاز میں تھے ۔ وہ زور زور سے باتیں کرتے تھے ۔ اس کی وجہ سے جہاز کے اندر سکون کی فضا برہم ہو رہی تھی ۔ مجھے ۳ اگست ۱۹۸۲ کا دن یاد آیا جب کہ میں مالٹا سے فرانس کی طرف سفر کر رہا تھا۔ ہوائی جہاز میں مجھ سے ملی ہوئی دو سیٹوں پر دو فرانسیسی بچے تھے ۔ دونوں بھائی بہن تھے اور برابر آپس میں باتیں کر رہے تھے ۔ مگر وہ دونوں اتنے آہستہ بولتے تھے کہ میں بالکل ان کی بغل میں ہونے کے باوجود ان کی گفتگو کا ایک لفظ بھی سمجھ نہ سکا ۔ کتنا فرق ہے ایک انسان اور دوسرے انسان میں ۔ میں نے ان سے بعض سوالات کئے تو انہوں نے اتنے مہذب انداز میں ان کے جوابات دئے کہ ہندوستان میں بہت کم اس کی امید کی جاسکتی ہے۔ ۲۴ مارچ کو میں لندن پہنچا ۔ وہاں چند روز قیام کے بعد ۲۹ مارچ ۱۹۸۳ء کو آگے کے لئے روانگی ہوئی ۔ برٹش ایرویز کی فلائٹ نمبر ۷ ۲۵ ہم کو لے کر اٹلانٹک کے اوپر اڑ رہی تھی ۔ آٹھ گھنٹہ مسلسل سمندر کے اوپر اڑنے کے بعد جہاز اینٹی گا (Antigua) اترا ۔ یہ بہت چھوٹا جزیرہ ہے ۔ جزیرہ میں ہر طرف ہریالی نظر آئی ۔ صنعتی کثافت سے دور ہونے کی وجہ سے یہاں بڑے شہروں کے وہ لوگ کثرت سے آتے ہیں جو اپنے شہر کی انسان کش خصوصیات سے گھبرا اٹھتے ہیں اور چھٹیاں گزارنے کے لئے قدرت کا سادہ ماحول چاہتے ہیں ۔ جہاز سے بہت سے مسافر یہاں اترے اور دوبارہ بہت سے سوار ہوئے ۔ یہ سب سیاح تھے ۔ اس دنیا میں اگر ترقی یافتہ ہونے کی قیمت ہے تو ان لوگوں کی بھی قیمت ہے جو ترقی کی دوڑ میں ابھی پیچھے ہوں ۔ اینٹی گا سے تقریباً ایک گھنٹہ کی پرواز کے بعد ۲۹ مارچ کی شام کو ہم باربیوڈ ز پہنچے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page