لندن میں چند روز
Urdu book, p. 119
By Maulana Wahiduddin Khan
ممالک کے اہل علم بھی معقول تعداد میں مدعو تھے ۔ مجموعی طور پر تقریباً دو درجن ملکوں کی نمائندگی یہاں موجود تھی ۔ ڈیلی گیٹوں کی تعداد ایک سو سے زیادہ تھی ۔ کانفرنس کی کارروائی ۳۱ مارچ ۱۹۸۳ کی شام کو تلاوتِ قرآن سے شروع ہوئی ، پہلے دن افتتاحی کارروائی کے بعد صدر کا نفرنس کا خطاب ہوا ۔ اگلے دنوں میں چھ مقالے پیش ہوئے ۔ ہر مقالہ اولاً پڑھا گیا اور اس کے بعد اس کے بارے میں سوال و جواب ہوا ۔ پروگرام کے مطابق یہاں تین دن کے اندر چھ مقالے پیش کئے گئے ۔ پہلا مقالہ میرا تھا جو ۲ اپریل ۸۳ کو پیش کیا گیا ۔ یہ علاقہ چونکہ مغربی علاقہ ہے ۔ یہاں کے لوگوں کی مادری زبان انگریزی ہے ۔ کانفرنس کی تمام کارروائی انگریزی میں ہوئی ۔ اس لئے یہ مقالہ میں نے انگریزی میں تیار کیا ۔ مقالہ تقریباً ۴۵ منٹ کا تھا ۔ مقالہ پڑھنے کے بعد لوگوں نے سوالات کئے جن کے جوابات بھی میں نے انگریزی میں دیئے ۔ یہ میری زندگی میں غالباً پہلا موقع تھا کہ میں نے انگریزی میں مقالہ پیش کیا اور انگریزی زبان میں لوگوں کے سوالات کے جواب دئے ۔ امریکہ کے ایک نو مسلم عبداللہ مصطفی (قدیم نام اسٹیواسکر) کئی بار ہمارے دفتر میں آئے ہیں ۔ میرے خیالات سننے کے بعد انہوں نے کہا کہ آپ کے لئے دعوتی کام کا اصل میدان امریکہ ہے ۔ دوسرے حضرات جو اس وقت وہاں اسلام کی نمائندگی کر رہے ہیں ، ان کے مقابلہ میں آپ کا انداز دعوت مغرب کو زیادہ اپیل کرنے والا ہے ۔ میں نے کہا امریکہ میں کام انگریزی زبان میں کرنا ہو گا ۔ اور مجھ کو انگریزی بولنے کی زیادہ مشق نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ آخر مجھ سے آپ انگریزی میں بات کرتے ہیں اور میں اچھی طرح آپ کے نقطہ نظر کو سمجھ لیتا ہوں ۔ آپ کا انداز سائنٹفک ہوتا ہے اس لئے وہ جلد سمجھ میں آجاتا ہے ۔ مجھے ابھی تک عبداللہ مصطفیٰ صاحب کی بات پر زیادہ یقین نہیں تھا۔ مگر بار ہیڈوز کی کانفرنس کے تجربہ کے بعد اس بارے میں اب خدا کے فضل سے مجھے اعتماد ہو گیا ہے ۔ میں نے اپنا مقالہ ۲ اپریل ۱۹۸۳ کی صبح کی نشست میں پڑھا ۔ مقالہ ختم کرنے کے فوراً بعد ایک صاحب کھڑے ہوئے ۔ میں سمجھا کہ وہ کوئی اعتراض کرنے کے لئے کھڑے ہوئے ہیں ۔ مگر انہوں نے یہ کہا کہ یہ مقالہ ایسا نہیں ہے کہ وہ صرف ایک بار پڑھ دیا جائے ۔ یہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader