Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

لندن میں چند روز

Urdu book, p. 131

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کے علاوہ سفر میں چند چیزیں ساتھ لے جانی تھیں جواب تک تیار نہ تھیں۔ مثلاً انگریزی الرسالہ (مارچ ۱۹۸۴) انگریزی میں تعارفی سٹ، مرکز کا تعارف نامہ وغیرہ ۔ صرف چند دن کے اندر یہ سارے کام ہو جانا ضروری تھا۔ سعودی عرب ایئر لائنز نے دو ٹکٹ دیدئے ، ایک میرے لئے اور ایک میرے ساتھی کے لئے۔ ۲۹ فروری کی صبح کے لئے ریزرویشن بھی کرا لیا گیا۔ مگر ۲۸ فروری آگئی اور ابھی تک کام پورا نہیں ہوا تھا۔ یقین نہیں تھا کہ میرا سفر ہو سکے گا۔ ۲۸ فروری کی صبح کو میں نے اپنے لڑکے ثانی اثنین کو کاموں کی فہرست دے کر گھر سے روانہ کیا۔ ثانی اثنین کی سمجھ میں بھی نہیں آتا تھا کہ اتنا سب کام صرف ایک دن میں کس طرح انجام پائے گا۔ رات کو واپس اگر ثانی اثنین نے بتایا کہ میں نظام الدین سے روانہ ہوا تو اجمیری گیٹ تک مجھ کو تمام چوراہوں پر گرین سگنل ملا۔ پہلی بار بالکل غیر معمولی طور پر ایسا ہوا کہ کسی ایک جگہ کے بغیر میں سیدھا اجمیری گیٹ پہنچ گیا۔ اس واقعہ سے میری ہمت بندھی ، مجھے یقین ہو گیا کہ ہمارے ساتھ اللہ کی مدد شامل ہے۔ اور ضرور تمام کام ہو جائے گا۔ چنانچہ رات تک حیرت انگیز طور پر سارا کام مکمل ہو چکا تھا۔ ایک ہفتہ کا کام صرف ایک دن میں مکمل ہو گیا اور میں حسب پروگرام ۲۹ فروری کو صبح ۱۰ بجے سعودی ایئر لائنز کی فلائٹ سے مدینہ کے لئے روانہ ہو گیا۔ غیر یقینی صورت حال کی وجہ سے میرے پروگرام کی قطعی اطلاع الجامعة الاسلامیہ (مدینہ) کو نہیں دی جا سکتی تھی۔ میری روانگی کے بعد ۲۹ فروری کی دوپہر کو جامعہ کے نام دہلی سے فیکس کیا گیا جب کہ اسی دن شام کو میں مدینہ پہنچنے والا تھا۔ ظہران اور ریاض ہوتا ہوا مدینہ ایرپورٹ پر پہنچا تو جامعہ کا نمائندہ وہاں معاونت کے لئے موجود تھا۔ موجودہ زمانہ میں مواصلات کی ترقی نے انسان کے لئے کس قدر آسانیاں پیدا کر دی ہیں۔ اس کے باوجود انسان خدا کا شکر ادا نہیں کرتا۔ مدینہ ایرپورٹ سے ہم الجامعۃ الاسلامیہ کے نمائندہ کے ساتھ چلے۔ یہاں تک کہ ہم لوگ فندق فنجیل میں پہنچادئے گئے۔ یہاں ہمارا قیام کمرہ نمبر ۹۰۱ اور ۹۰۲ میں تھا۔ اگلے دن ہم الجامعۃ الاسلامیہ لے جائے گئے ۔ وہاں رئیس الجامعہ ڈاکٹر عبد اللہ صالح العبید اور دوسرے ذمہ داروں سے ملاقات ہوئی۔ عرب لوگ ملاقات کے وقت دعائیں بہت دیتے ہیں۔ یرحکم اللہ ، یحییکم اللہ جیسے کلمات کی فضاہیں ملاقاتیں ہوئیں۔ رئیس الجامعة بار بار فرصۃ طیبۃ ، فرصتہ طلبہ کہتے رہے۔ ذمہ داروں کے مشورے کے بعد محاضرات کا پروگرام ترتیب دیا گیا۔ اس سلسلے میں ذمہ داروں کی طرف سے اخبار میں بھی اعلان شائع کر دیا گیا۔ جامعہ کے شائع کردہ سرکلر کا عکس مقابل صفحہ پر دیا جا رہا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page