سفر مدینہ
Urdu book, p. 133
By Maulana Wahiduddin Khan
مدینہ کا یہ سفر الجامعۃ الاسلامیہ ( مدینہ منورہ ) کی دعوت پر ہوا۔ جمادی الاول ۱۴۰۲ھ میں جامعہ میں المؤتمر الثانی للدعوۃ الاسلامیۃ کا اجلاس ہوا۔ جس میں دنیا کے مختلف حصوں سے دعاۃ اور اہل علم بلائے گئے تھے۔ مجھے بھی اس موتمر میں شرکت کی دعوت دی گئی۔ مطبوعہ پرو گرام میں میرا نام شامل کیا جا چکا تھا۔ مگر اس وقت میں بعض اسباب کی بنا پر سفر نہ کر سکا۔ تاہم جامعہ مجھ کو بلانا چاہتی تھی۔ چنانچہ اس کے بعد انھوں نے ایک ہفتہ کا مستقل پرو گرام بنایا جس میں جامعہ کے طلبہ اور اساتذہ سے ملاقاتیں تھیں اور ہر روز شام کو جامعہ میں میرا ایک محاضرہ (لیکچر) رکھا گیا تھا۔ اس پرو گرام کے تحت یہ سفر ہوا۔ ۲۹ فروری کو دہلی سے روانہ ہو کر یکم مارچ ۱۹۸۲ کو مدینہ پہنچا۔ ظہران کے ہوائی اڈہ پر جہاز اتر اتروا اعلان کیا گیا کہ تمام مسافر ، خواہ وہ ظہران سے آگے جا رہے ہوں یہاں اتریں اور کسٹم پر جا کر معائنہ کرائیں ۔ اس قسم کی غیر معمولی چیکنگ ان سیاسی مجاہدین کی نادانیوں کی قیمت ہے جو وہ اسلام کے نام پر موجودہ زمانہ میں کر رہے ہیں۔ اسلام انسانوں کے لئے رحمت بن کر آیا تھا مگر اسلام کے نادان دوستوں نے اس کو انسانوں کے لئے زحمت بنا دیا ہے۔ ظہران کے ہوائی اڈہ پر ہماری کتابیں اور کا غذات کسٹم والوں نے بے رحمی کے ساتھ نکال کر کھیر دئے۔ ان کو ہر لٹریچر پر " باغیانہ لٹریچر کا شبہہ ہوتا ہے۔ اتنے میں شیخ محمد یونس نجرا می آگئے جو یہاں مراقب المطبوعات ہیں ، وہ مجھ کو جانتے تھے۔ انھوں نے اسٹاف کے لوگوں سے کہا کہ ھو من کبار علماء الہند ۔ اس کے بعد انھوں نے ہم کو چھوڑ دیا۔ ۲ مارچ کو جامعہ کے بڑے ہال میں پہلا محاضرہ تھا۔ اصل محاضرہ عربی میں تھا اور اس کا موضوع تھا : التضامن والدعوۃ الاسلامیۃ ۔ وسیع ہال بھرا ہوا تھا۔ ابتدائی کارروائی کے بعد میں نے مقالے کے چند صفحات پڑھے اور پھر یہ کہہ کر اس کو مولا نا صفی احمد صاحب کو دے دیا اور انھوں نے بقیہ صفحات پڑھ کر مقالہ کو مکمل کیا : سیوالى القراة انشاء اللہ اخي الفاضل صفی احمد نیابۃ عنی وببذا الله التوفيق ۳ مارچ کو جامعہ کی مسجد میں پرو گرام تھا۔ یہ مسجد بہت بڑے ہال کی مانند ہے اور انتہائی سادہ ہوتے کے باوجود انتہائی شاندار ہے۔ یہ دوسرا محاضرہ انگریزی میں تھا۔ میں نے اصل انگریزی محاضرہ کا کچھ حد بطور خلاصہ پڑھا اور اس کے بعد کہا : هذی خلاصة مقالتی وسیلقیها مفصلة باللغة العربية فضيلة الاستاذ محي الدين العربي ۔ محی الدین عربی ایک مصری عالم ہیں۔ انھوں نے پہلے سے میرے انگریزی مقالہ کا عربی ترجمہ تیار کر رکھا تھا۔ چنانچہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader