Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

سفر مدینہ

Urdu book, p. 144

By Maulana Wahiduddin Khan

۱۰ مارچ کی شام کو شیخ محمد عمر فلانہ سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے الجامعة الإسلامية کے بعض عجیب واقعات سنائے۔ انھوں نے بتایا کہ میں جامعہ کے تحت ایک سفر کے دوران کیمبرون گیا۔ وہاں جامعہ کے ایک فارغ طالب علم سے ملاقات ہوئی تو وہ بار بار جامعہ کے ایک مستخدم ( ملازم ) کے بارے میں سوال کرتا اور اس کا حال پوچھتا۔ میں نے پوچھا کہ تم جامعہ کے شیوخ سے زیادہ مستخدم کے حالات در یافت کر رہے ہو کیا بات ہے۔ اس کے بعد اس نے بتایا کہ میں تعلیم کی غرض سے جامعہ گیا۔ میں اپنے ساتھ کوئی رقم نہیں لے گیا تھا۔ کیوں کہ میں سمجھتا تھا کہ ساری کفالت جامعہ کی طرف سے ہوگی۔ جب وہ مدینہ کے ایئر پورٹ پر اترا تو اس کو یہ دیکھ کر بہت مایوسی ہوئی کہ وہاں کوئی گاڑی اس کی مدد کے لئے موجود نہیں ہے۔ نوجوان کے لئے اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا کہ وہ ٹیکسی کرے۔ اگرچہ اس کی جیب میں کوئی رقم موجود نہ تھی۔ تاہم اس نے ٹیکسی کی اور اس کے ذریعہ ایئر پورٹ سے جامعہ پہنچا۔ یہاں جب ٹیکسی والے نے کرایہ (پندرہ ریال ) مانگا تو نوجوان نے کہا کہ میرے پاس کچھ نہیں ہے۔ اس پر ٹیکسی والا غصہ میں آگیا۔ اور نوجوان کو دھوکہ باز، شیطان وغیرہ کہنے لگا۔ نوجوان بے بسی کے انداز میں ٹیکسی والے کی سخت کلامی کو سن رہا تھا۔ اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا کرے۔ اتنے میں جامعہ کا ایک مستخدم شور سن کر وہاں آگیا اور ٹیکسی والے سے کہا کہ تم کیوں اس طالب علم کو پریشان کر رہے ہو۔ اس نے کہا کہ یہ دھو کے باز ہے۔ مجھ کو ایئر پورٹ سے لایا اور اب کرایہ دینا ہے تو کہتا ہے کہ میرے پاس کچھ نہیں۔ مستخدم نے کہا کہ اپنی زبان روکو، یہ ضيوف الرحمن ہیں اور یہ مجھ سے اور تم سے بہت زیادہ بہتر ہیں۔ اس کے بعد مستخدم نے اپنی جیب سے پندرہ ریال نکالے اور اس کو ٹیکسی کے مالک کے حوالے کیا۔ اس کے بعد یہ مستخدم نوجوان کو لے کر دفاتر میں گیا۔ ضروری کارروائی کرائی اور اس کے سامان کو اس کے کمرہ تک پہنچایا۔ آخر میں جب وہ رخصت ہونے لگا تو اس نے دوبارہ اپنی جیب سے ۲۰ ریال نکالے اور طالب علم کے حوالہ کر کے باہر چلا گیا۔ ایک ہندوستانی طالب علم سے میں نے عربوں کے بارے میں ان کے تجربات پوچھے ۔ انھوں نے کہا کہ میں نے عربوں میں ایک خاص بات یہ دیکھی کہ ان کے اندر توسع کا مزاج ہوتا ہے جو ہندوستان اور پاکستان جیسے علاقوں میں دیکھنے میں نہیں آتا۔ ہم لوگ کسی محفل میں ایک تقریر کرتے ہیں یا کسی موقع پر ایک سوال کا معمولی جواب دیتے ہیں تو ہمارے اساتذہ فراخ دلی کے ساتھ احسنت احسنت کہتے ہیں۔ ان کا مزاج ہوتا ہے کہ جو خوبی ہے اس کا بھر پورا اعتراف کیا جائے اور جو کمی ہے اس کو نظر انداز

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page