Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

سفر مدینہ

Urdu book, p. 146

By Maulana Wahiduddin Khan

تاہم کچھ چیزیں آج بھی اپنی ابتدائی شکل میں موجود ہیں۔ مثلاً بیر رومہ جس کو حضرت عثمان نے ایک یہودی سے خرید کر عام مسلمانوں کے لئے وقف کیا تھا۔ اسی طرح کعب بن اشرف کا قلعہ نما مکان بھی کھنڈر کی صورت میں ابھی تک موجود ہے۔ ہم نے یہ مقامات دیکھے۔ ان کو دیکھ کر عجیب عبرت حاصل ہوئی۔ پھر ہم احد پہاڑ کو دیکھنے گئے۔ یہاں دیگر آثار کے علاوہ وہ شق (غار) بدستور موجود ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شکست کے بعد پناہ لی تھی۔ میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ پہاڑ کے اوپر چڑھ کر غار میں داخل ہوا اور ان پتھروں پر دیر تک بیٹھا رہا جہاں حسب روایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زخمی ہونے کے بعد بیٹھے تھے۔ اس وقت طبیعت پر عجیب اثر ہوا۔ ایسا معلوم ہوا جیسے تاریخ کا درمیانی وقفہ حذف ہو گیا ہے اور میں براہ راست رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں پہنچ گیا ہوں۔ مدینہ منورہ میں ہمارا آخری پروگرام ۱۱ مارچ ۱۹۸۴ء کو النادی الادبی میں تھا۔ فلسطینی نو جوان مصطفیٰ شاور ایک روز مجھ کو ایک کتاب کے سلسلے میں ایک دفتر میں لے گئے۔ مگر جب ملاقات ہوئی تو معلوم ہوا کہ وہاں کے ذمہ دار اعلیٰ ڈاکٹر محمد ہاشم رشید) مجھ سے بخوبی واقف ہیں اور میری عربی مطبوعات پڑھے ہوئے ہیں۔ انھوں نے اصرار کیا کہ النادی الادبی میں بھی ضرور میرا ایک پروگرام ہو۔ چنانچہ مشورہ کے بعد اس کی تاریخ ۱۱ مارچ کی شام طے ہوئی۔ النادی الادبی کے ذمہ داروں نے اخبار میں اس کا اعلان کر دیا۔ نیز حسب ذیل سرکلمہ مختلف تعلیم یافتہ افراد کے نام شخصی طور پر روانہ کیا گیا المملكة العربية السعودية الرئاسة العامة لرعاية الشباب نادى المدينة المنورة الادبی يتشرف نادى المدينة المنورة الادبى بدعوة حضرتكم للاشتراك في الندوة المفتوحة التي سيقيمها النادى مع صاحب الفضيلة العلامة الداعية الاسلامى الكبير الشيخ وحيد الدين خان / مساء يوم الاحد الموافق ٩-١٤٠٤/٦/١٠هـ بعد صلاة العشاء مباشرة على صالة المحاضرات في مقر النادی بتاريخء بـار شاكر بن لكم حسن استجابتكم وتعاونكم مع النادی ،،،،،، رئيس نادى المدينة المنورة الادبی محمد هاشم رشيد

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page