سفر مدینہ
Urdu book, p. 152
By Maulana Wahiduddin Khan
۴ مارچ کو ڈاکٹر عبد اللہ بن عبد المحسن الترکی سے ملاقات کا پروگرام تھا۔ وہ سعودی عرب کی سب سے بڑی یونیورسٹی جامعۃ الامام محمد بن سعود الاسلامیہ کے مدیر (Rector) ہیں ۔ ان کا دفتر اتنا بڑا ہے کہ خود ایک یونی ورسٹی معلوم ہوتا ہے۔ ملاقات کا کمرہ ہندوستان کے وزیراعظم کے کمرہ سے بھی زیادہ وسیع اور شاندار نظر آیا۔ تاہم اس کے اندر جو انسان بیٹھا ہوا تھا وہ سراپا تواضع اور سنجیدگی کی تصویر معلوم ہوتا تھا۔ زیادہ تر ہندوستان کے حالات اور اسلامی مرکز (دہلی) کے بارے میں گفتگو رہی۔ آخر میں وہ نماز ظہر کے لئے اٹھے۔ میں یہ سمجھا کہ وہ عقبی کمرہ میں نماز ادا کرنے کے لئے جا رہے ہیں۔ مگر وہ ہمارے ساتھ بیرونی دروازہ کی طرف چلے، یہاں تک کہ ہم لوگ زینہ سے اتر کر قریب کی مسجد میں پہنچے جو مدیر کے دفتر سے متصل بنائی گئی ہے۔ یہاں کافی لوگ نماز کے لئے جمع تھے ۔ ڈاکٹر زرکی چلتے رہے یہاں تک کہ وہ امام کی جگہ پہنچ گئے۔ اب مجھے معلوم ہوا کہ جو شخص یونی ورسٹی کا ریکٹر ہے وہ یہاں کی مسجد کا امام بھی ہے۔ ڈاکٹر عبد اللہ بن عبد المحسن الترکی نے ایک بڑی عرب شخصیت سے میرا تعارف کراتے ہوئے کہا۔ الشیخ وحید الدین ، مدیر المرکن الاسلامی فی الهند ، هو معروف لدينا بنشاطه وصدق سعیه ۔ سعودی عرب میں دو لاکھ سے زیادہ ہندوستانی ہیں ۔ ان میں ہندو، مسلمان، اور عیسائی سب شامل ہیں۔ ریاض میں بھی ان کی کافی تعداد ہے۔ ریاض کے زمانہ قیام میں بعض ہندوستانی دوستوں کی خواہش ہوئی کہ ان کے یہاں ایک وقت کا کھانا کھایا جائے ۔ اس موقع پر ہندوستانی دوستوں کی ایک تعداد جمع ہوگئی۔ قرآن کی بعض آیات کی روشنی میں میں نے دین کی حقیقت واضح کرنے کی کوشش کی۔ سعودی عرب میں جو ہندوستانی مقیم ہیں وہ عام طور پر خوش ہیں یہ یہاں وہ مسائل مطلق نہیں ہیں جو ہندوستان جیسے ملکوں میں ہوتے ہیں۔ البتہ وطن اور خاندان سے دوری کا احساس ہر ایک کو رہتا ہے۔ دوسری بات بچوں کی تعلیم کی ہے۔ اکثر لوگ اس احساس میں مبتلا رہتے ہیں کہ وطن سے دور رہنے کی وجہ سے وہ اپنے بچوں کو ویسی تعلیم نہیں دلا پاتے جیسا وہ چاہتے ہیں۔ ڈاکٹر عبد العلیم عویس جامعۃ الامام میں علوم اجتماعیه (Social Sciences) کے پروفیسر ہیں ۔ ان سے بڑی دلچسپ اور مفید ملاقاتیں رہیں ۔ ایک گفتگو میں انھوں نے بڑی عمدہ بات کہی۔ انھوں نے کہا کہ انسان مال بناتا ہے مگر مال انسان نہیں بناتا ۔ (الانسان يصنع المال ولكن المال لا يصنع الانسان)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader