Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

امریکہ کا سفر

Urdu book, p. 244

By Maulana Wahiduddin Khan

سکتا ہے کہ بر بنائے تعصب ۔ اگر ہم اس کو تعصب سمجھیں تو اس کے خلاف احتجاج میں اپنا وقت ضائع کرتے رہیں گے۔ اس کے برعکس اگر ہم اس کو ایک واقعہ سمجھیں تو انگریزی زبان کی یہ توسیع ہم کو ایک نعمت معلوم ہوگی۔ اس سے ہمارے اندر عمل کا حوصلہ پیدا ہوگا۔ کیوں کہ اس کی وجہ سے تاریخ میں پہلی بار یہ ممکن ہوا ہے کہ کسی ایک زبان کے ذریعہ دنیا بھر کے تمام انسانوں کو خطاب کیا جا سکے۔ پوری کانفرنس میں غالباً صرف ایک شخص تھا جو انگریزی زبان سے واقف نہ تھا۔ یہ افریقہ کے قبائلی مذہب کا پیشوا تھا۔ وہ اپنے مخصوص لباس میں آیا تھا۔ وہ اپنے کندھے پر برابر ایک خاص طرح کا کوٹارکھے رہتا تھا۔ وہ اپنی مقامی زبان میں بولتا تھا اور ایک شخص اس کی گفتگو کا ترجمہ انگریزی زبان میں کرتا تھا۔ اس کے لیے ترجمان کا یہ استثنائی انتظام غالباً اس لیے کیا گیا تھا کہ مذاہب کی فہرست نامکمل نہ رہ جائے۔ اس کانفرنس کی منصوبہ بندی دو سال پہلے سے ہو رہی تھی۔ چنانچہ اس کی ایک ایک بات پہلے سے طے شدہ تھی۔ اجتماع کے بارہ میں چھوٹی بڑی تمام تفصیلات کا غذ پر مرتب کر کے مدعو حضرات کو بھیج دی گئی تھیں۔ ہر شخص کو پیشگی طور پر معلوم تھا کہ کس روز اس کو نیو یارک پہنچنا ہے۔ کس روز وہاں سے روانہ ہونا ہے اور اس درمیان میں اس کو کن کن کارروائیوں میں حصہ لینا ہے۔ اس سلسلہ میں منتظمین کی طرف سے اتنے خطوط اور کاغذات موصول ہوئے کہ ان کا ایک پورا فائل بن گیا۔ راقم الحروف کو اس کا دعوت نامہ چھ ماہ پہلے مل چکا تھا۔ میں نے بہت سی مسلم کانفرنسوں میں شرکت کی ہے مگر اتنا نظم اور اتنی مکمل منصوبہ بندی مجھے کسی مسلم کا نفرنس میں نظر نہ آئی۔ اگر چہ شرکاء، خاص طور پر مشرقی ممالک کے شرکار نظم کی پوری پابندی کا ثبوت نہ دے سکے ۔ مثال کے طور پر جن لوگوں سے مقالہ تیار کرنے کی فرمائش کی گئی تھی ان سے کہا گیا تھا کہ مقالہ کو جدید الیکٹرانک ٹائپ رائٹر پر دونوں طرف برابر سطروں (Both side aligned) میں ٹائپ کر کے بھیجیں۔ چنانچہ راقم الحروف نے اپنا مقالہ عین اسی قاعدہ کے مطابق ٹائپ کرا کر پیش کیا۔ مگر وہاں میں نے دیکھا کہ بہت کم لوگوں نے اس کی پابندی کی تھی ۔ زیادہ تر مقالے عام طرز کے ٹائپ رائٹر پر ٹائپ کرائے گئے تھے جو ایک طرف برابر ہوتے ہیں اور دوسری طرف غیر برابر۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page