امریکہ کا سفر
Urdu book, p. 254
By Maulana Wahiduddin Khan
کی طرف سے سامنے آئے۔ اس موقع پر ہر مذہب کو عبادت کے لیے بال دیئے گئے تھے ۔ چنانچہ ایک ہال ”مسجد“ کے لیے بھی تھا۔ کانفرنس میں مختلف ملکوں کے تقریباً ۸۰ مسلمان شریک تھے۔ ان کی ایک قابل لحاظ تعداد نماز کے وقت مسجد میں جمع ہو جاتی۔ ان حضرات نے اپنے اپنے حلقہ میں ہونے والے مباحثہ کی رپورٹ دیتے ہوئے ایک بات مشترک طور پر کہی۔ وہ یہ کہ دوسرے مذاہب پر گفتگو کے وقت لوگ سنجیدہ رہتے ہیں۔ مگر جہاں اسلام کا ذکر آیا وہ جارحانہ انداز اختیار کر لیتے ہیں۔ خود ہمارے حلقہ بحث میں بھی یہ صورت پیش آئی۔ تاہم میرا خیال ہے کہ اس کی ذمہ داری دوسروں سے زیادہ خود مسلمانوں پر ہے۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں نے اسلام کا تعارف زیادہ تر سیاسی انداز سے کرایا ہے۔ اگر اسلام کا تعارف فطری انداز میں کرایا جائے تو اس قسم کار عمل اپنے آپ ختم ہو جائے گا۔ ایک مجلس میں میں نے دیکھا کہ ایک مسلمان پروفیسر نے اسلام کو ”ایک کامل ریاستی نظام“ کے طور پر پیش کیا۔ اس کے بعد غیر مسلم حاضرین نے فوراً پاکستان ، ایران ، عراق اور دوسرے ملکوں کی مثالیں دے کر کہنا شروع کیا کہ وہاں ایسا اور ایسا ہورہا ہے تو کیا اسلام کا ریاستی نظام یہی ہے۔ پھر جب منفی ذہن پیدا ہوا تو اس کے بعد دوسرے غیر متعلق اعتراضات بھی شروع ہو گئے جیسا کہ ہمیشہ ہوتا ہے۔ اس کا واحد حل یہ ہے کہ اسلام کو آخرت کے انداز میں پیش کیا جائے نہ کہ سیاست اور حکومت کے انداز میں، جیسا کہ وہ فی الواقع ہے۔ آدمی ہمیشہ نظریہ کی تصدیق (Verification) چاہتا ہے۔ جب آپ اسلام کا تعارف سیاسی نظام کے انداز میں کرائیں تو قدرتی طور پر وہ اس کی تصدیق کے لیے موجودہ مسلم ملکوں کو دیکھتا ہے۔ اور جب ان ملکوں میں وہ کوئی بہتر نظام نہیں پاتا تو وہ اس کی صداقت کے بارہ میں شک میں پڑ جاتا ہے۔ اس کے برعکس جب آپ اسلام کا تعارف فطرت کے انداز میں کرائیں تو آدمی اس کی تصدیق کے لیے انسانی فطرت کو دیکھتا ہے اور یہاں وہ فوراً اس کی تصدیق پال لیتا ہے۔ کیوں کہ انسانی فطرت کا خالق خدا ہے اور اس نے اس کو سراسر حق کی بنیاد پر بنایا ہے۔ فطرت کے انداز میں پیش کیا ہوا اسلام خود آدمی کے اپنے دل کی سطح پر بلا تاخیر اپنی تصدیق پا رہا ہے۔ جب کہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader