امریکہ کا سفر
Urdu book, p. 257
By Maulana Wahiduddin Khan
ہوئے ۔ اس کے بعد ذاتی مطالعہ سے بدھسٹ ہو گئے ۔ میں نے ان سے پوچھا کہ بدھ لوگ خدا کو نہیں مانتے کیا آپ بھی خدا کو نہیں مانتے ۔ انھوں نے کہا ہاں ، میں خدا کو نہیں مانتا ۔ میں نے کہا کیوں ۔ انھوں نے کہا اس لیے کہ خدا کو ثابت نہیں کیا جاسکता ۔ میں نے کہا کہ اگر خدا کے وجود کا عقلی ثبوت نہ ہو تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ حقیقتہً بھی خدا کا وجود نہیں ۔ اس کی وجہ ہماری کیاں (limitations) ہیں۔ ہم اپنی کییوں کی وجہ سے کسی بھی چیز کو عقلی طور پر ثابت نہیں کر سکتے ۔ پھر جس طرح دوسری چیزیں قرینہ کی بنیاد پر مانی جاتی ہیں اسی طرح خدا کو بھی قرائن کی بنیاد پر ماننے میں کیا رکاوٹ ہے۔ جب میں نے دیکھا کہ منطقی دلیل سے وہ قائل نہیں ہو رہے ہیں تو میں نے کہا کہ میں اپنے بارہ میں کہہ سکتا ہوں کہ خدا میری ذاتی دریافت ہے ۔ میں اپنی دریافت (realization) کی بنا پر کہہ سکتا ہوں کہ مجھے خدا کے بارہ میں کوئی شک نہیں ۔ جب میں نے اس طرح یقین کی زبان میں کہا تو میں نے دیکھا کہ وہ نرم ہو گئے ۔ اس کے بعد ان کا زور کلام ٹھنڈا پڑ گیا ۔ شاید بیشتر انسانوں کا حال یہ ہے کہ وہ استدلال سے زیادہ یقین سے متاثر ہوتے ہیں ۔ نیوجرسی اور نیویارک میں کافی مسلمان آباد ہیں ۔ ان میں سے کچھ لوگوں سے ملاقات ہوئی انھوں نے زور دیا کہ آپ کانفرنس سے فراغت کے بعد مزید کم از کم ایک مہینہ ہمارے پاس ٹھہریئے یہاں ہم مختلف مقامات پر لوگوں کو جمع کریں گے جن کے سامنے آپ اپنا دینی پیغام رکھ سکیں ۔ مگر میرے لیے ٹھہرنے کا موقع نہیں تھا اس لیے ان لوگوں سے معذرت کردی ۔ تاہم جناب مرزا فرید بیگ صاحب (نیو کلیئر انجینیر) کے اصرار پر مجھے ایک دن مزید ٹھہرنا پڑا ۔ مرزا فرید بیگ نہایت صالح اور ذہین نوجوان ہیں ۔ دینی امور کے سختی سے پابند ہیں ۔ چہرے پر نمایاں داڑھی بھی موجود ہے۔ ۲۰ نومبر ۱۹۸۵ء کی شام کو ہم نے ہوٹل چھوڑ دیا اور مرزا فرید بیگ صاحب کے ساتھ لینڈنگ (نیوجرسی) کے لیے روانہ ہوئے ۔ تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ سفر کرنے کے بعد ہم فرید بیگ صاحب کے مکان پر پہنچے ۔ میں نے دیکھا کہ جیسے ہی گاڑی گیراج کے سامنے پہونچی گیراج کا دروازہ اوپر اٹھنا شروع ہو گیا ۔ یہاں تک کہ پورا دروازہ اٹھ گیا اور گاڑی اندر داخل ہو گئی ۔ دروازہ کا یہ کھلنا ریموٹ کنٹرول کے ذریعہ ہوا ۔ یہ دروازہ شطر کی مانند بنایا جاتا ہے تاکہ وہ بیٹھا جا سکے ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader