امریکہ کا سفر
Urdu book, p. 268
By Maulana Wahiduddin Khan
آپ یہاں لمبی مدت سے رہ رہے ہیں ۔ آپ کو خود یہ بات جاننا چاہیے : ان تلخ تجربات کے بعد آدمی کا دل ٹوٹ گیا۔ اس نے امریکہ میں اپنا بزنس فروخت کر دیا اور دہلی واپس آگیا۔ دہلی میں اس کے پاس بہت بڑا مکان ہے۔ اس کے پاس دو شوفر ہیں۔ چار مالی ہیں اور دوسرے بہت سے گھریلو ملازم ہیں۔ مگر وہ آدمی تنہا ہے۔ اس کے لیے دنیا میں اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ شراب پی کر اپنا غم بھلاتارہے۔ (ٹائمس آف انڈیا، ۲۰ اگست ۱۹۸۵ صفحه ۸) امریکی بزنس کس طرح چلتی ہے، اس کی ایک دلچسپ مثال کوکا کو لا ہے۔ آج ۳۵ ملکوں میں اس کے ۹۰ ملین بوتل روزانہ فروخت ہوتے ہیں۔ کوکا کولا کے اجزار ۱۸۸۶ میں پیمبرٹن (John S. Pemberton) نے دریافت کیے تھے۔ اس وقت سے آج تک اس کا فارمولا ایک راز ہے جس کو صرف کمپنی کے چند ڈائرکٹر جانتے ہیں۔ کوکا کولا کے کارخانے ساری دنیا میں ہیں۔ مگر اس کا اصل جز آج بھی صرف امریکہ میں تیار کیا جاتا ہے۔ تاکہ اس کا راز باقی رہے۔ اس سے پہلے یہ راز صرف چند دماغوں میں تھا اب وہ کاغذ پر لکھ کر بینک میں مقفل کر دیا گیا ہے۔ اس مقفل بکس کو صرف کمپنی کے ڈائرکٹر ہی کھول سکتے ہیں۔ ہندوستان میں کوکا کولا کے ۲۲ کارخانے تھے ۔ وہ ہندوستان کا سب سے زیادہ مقبول مشروب (Soft drink) تھا۔ ۱۹۷۷ میں جنتا حکومت نے چاہا کہ اس کو (Indianise) کرے ۔ اس مقصد کے لیے کمپنی کو اپنا فارمولا ہندوستانی حکومت کو بتانا پڑتا۔ کمپنی نے اپنا فارمولا راز میں رکھنے کی یہ قیمت ادا کی کہ یک لخت ہندستان میں اپنا بزنس ختم کر دیا۔ مگر اپنا فارمولا ہندوستانی حکومت کو بتانے پر راضی نہیں ہوئی ۔ امریکہ میں پروسیس کی ہوئی شکر جتنی تیار ہوتی ہے اس کا دس فی صد صرف کوکا کولا کمپنی خریدتی ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کوکا کولا میں کیفین (Caffeine) کا ایک جز ڈالا جاتا ہے۔ یہ ایک بے حد تلخ چیز ہے ۔ اس کی تلخی کو گھٹانے کے لیے اس میں سب سے زیادہ جو چیز ڈالی جاتی ہے وہ شکر ہے۔ ۱۹۵۴ میں مراکو میں یہ افواہ اڑگئی کہ کوکا کولا میں خنزیری کے خون کی ملاوٹ ہوتی ہے۔ اس کے بعد وہاں کافی شور ہوا اور مسلمانوں نے کوکا کولا پینا چھوڑ دیا۔ اس کے بعد کمپنی والوں نے سلطان مراکو کے صاحبزادے کو آمادہ کیا۔ انھوں نے مجمع عام میں لوگوں کے سامنے کوکا کولا پی کر اس کی تردید کی ۔ اس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader