Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

امریکہ کا سفر

Urdu book, p. 284

By Maulana Wahiduddin Khan

Greek and Arabic were still living languages in Sicily. Frederick learnt to speak six languages fluently (including Arabic). He was at home in Arabian philosophy, and had friendly relations with Mohammadans. A History of Western Philosophy p. 436 بما کو کی اسلامی کانفرنس کا افتتاح ۶ دسمبر ۱۹۸۵ء کی شام کو ہوا ۔ افتتاح کی تقریب میں مالی کے وزیر خارجہ ، وزیر داخلہ، وزیر تعلیم اور دوسرے بہت سے ذمہ دار موجود تھے ۔ اس کانفرنس میں تین زبانیں رائج تھیں عربی، انگریزی اور فرانسیسی ۔ اس میں دنیا کے مختلف حصوں سے نمائندہ افراد شریک ہوئے ۔ چنانچہ کویت کے نمائندہ نے تقریر کی تو انھوں نے اپنی تقریر میں یہ الفاظ استعمال کیے : اتینامن مشارق الارض ومن مغاربها اس کانفرنس میں حسب ذیل ملکوں کے اہل علم مسلمان شریک تھے : کناڈا، مالی ، قبرص، یونان، سعودی عرب، مالدیپ، سوئزرلینڈ، مینڈا گاسکر، انگلینڈ، شمالی امریکہ، جنوبی امریکہ، برازیل، سوڈان ، کینیا، ہندوستان، ترکی، کویت، پاکستان، گیانا، شام، فلپائن، فلسطین، گھانا، گیمبیا، ہالینڈ، یوگوسلاویہ، افغانستان، کوریا، تیونس ، نائجیریا، یمن، جاپان ۔ کانفرنس میں زیادہ تر دو قسم کے امور پر تقریریں اور مباحثے ہوئے ، ایک اسلامی دعوت، دوسرے اسلام یا مسلمانوں پر دوسری قوموں کے حملے ۔ تاہم کانفرنس پر دوسرا موضوع زیادہ نمایاں رہا ۔ ہر علاقے کے لوگوں نے اپنے اپنے علاقے کی مشکلات بیان کیں۔ خاص طور پر وہ مشکلات جو صیہونیت، کمیونزم اور جدید استعمار کی طرف سے پیدا کی گئی ہیں ۔ دعوت کا موضوع زیادہ تر دفاعی طور پر سامنے آیا۔ موجودہ زمانہ میں مسیحی مبلغین کافی سرگرمی کے ساتھ مسلمانوں پر کام کر رہے ہیں۔ پوپ نے پچھلے چند برسوں میں چار بار افریقہ کا سفر کیا ہے۔ مسیحی چرچ نے طے کیا ہے کہ مسلمانوں کے بڑے حصہ کو یا تو مسیحی بنا دیا جائے اور اگر وہ مسیحی بننے پر راضی نہ ہوں تو ان کے ذہن کو اس طرح بدل دیا جائے کہ اپنے مذہب میں ان کی فکری جڑیں باقی نہ رہیں۔ وہ نہ مسلمان ہوں اور نہ عیسائی ۔ کانفرنس کے شرکا کا عام احساس یہ تھا کہ چرچ کے لوگ جتنے منظم طور پر اپنا دعوتی کام کرتے ہیں اتنے منظم طور پر مسلمان اپنا دعوتی کام نہیں کر رہے ہیں۔ اس لیے اسلامی دعوت کے کام کو زیادہ منظم اور زیادہ موثر بنانے کی ضرورت ہے ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page