امریکہ کا سفر
Urdu book, p. 312
By Maulana Wahiduddin Khan
اربابِ عہدہ سے ذاتی طور پر ملاقات کرنے میں مجھے ہمیشہ تکلف ہوتا ہے۔ اس باب میں ڈاکٹر پیج (Dr Joseph Paige) سے ذاتی ملاقات نہ کر سکتا تھا۔ ایک موقع پر انہوں نے خود اس کی صورت پیدا کر دی۔ وہ اچانک اٹھ کر آئے اور میرے پاس خالی کرسی پر بیٹھ گئے۔ انہوں نے میرے ساتھ کئی تصویریں کھنچوائیں۔ اس دوران ان سے گفتگو ہوئی۔ میں نے ان کے سامنے کانفرنس کے زیرِ بحث موضوع پر اسلام کا تصور پیش کیا۔ اور انہیں انگریزی الرسالہ کے دو شمارے دیئے۔ اگلے دن میں نے دیکھا کہ وہ الرسالہ (انگریزی) ایک صاحب کو دکھا رہے ہیں ۔ وہ اس کو اہتمام کے ساتھ اپنی فائل میں رکھے ہوئے تھے۔ اجتماعی مواقع پر ایک مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ اگر مقرر کی زبان اور سامعین کی زبان ایک دوسرے سے مختلف ہو تو تقریر کو سامعین کے لیے کس طرح قابلِ فہم بنایا جائے۔ پہلے زمانہ میں اس کا طریقہ یہ تھا کہ مقرر کے ساتھ ایک اور آدمی بطور ترجمان کھڑا ہو اور وہ مقرر کی تقریر کو سامعین کی زبان میں بیان کرے۔ اس کے بعد ان آلات کا زمانہ آیا جن کو عام طور پر ہیڈسٹ (Head set) کہا جاتا ہے۔ اس میں تار کے ذریعہ مقرر کے الفاظ ترجمان تک پہنچائے جاتے تھے ۔ اور دوبارہ تار کے ذریعہ ترجمان کی آواز سامعین تک پہنچتی تھی۔ اب الیکٹرانکس کے دور میں مزید ترقی یافتہ طریقے وجود میں آ گئے ہیں۔ اب ایسے ہیڈسٹ بنائے گئے ہیں جن کے لیے تار کی ضرورت نہیں ہوتی۔ وہ تار کے بغیر کام کرتے ہیں۔ اعلیٰ معیار کی کانفرنسوں میں اب یہی ہیڈسٹ استعمال ہوتے ہیں۔ جینیوا کی کانفرنس میں بھی اسی کا انتظام تھا۔ مثلاً مقرر اگر فرانسیسی یا ہسپینی زبان میں بول رہا ہو تب بھی عین اسی وقت چھوٹے سے ہیڈسٹ کے ذریعہ اس کو انگریزی میں سنا جا سکتا تھا۔ سامع کی نسبت سے مقرر کے الفاظ نا قابل فہم بولی کی حیثیت رکھتے تھے۔ مگر ہیڈسٹ کے استعمال سے وہ سننے والوں کے لیے قابلِ فہم بن جاتے تھے۔ اس قسم کی چیزیں آج عام ہو چکی ہیں۔ لوگ ان کو "سائنس کا معجزہ" کہتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ خدا کا معجزہ ہے۔ میرا یہ حال ہے کہ میں جب اس قسم کی کسی سائنسی چیز کو دیکھتا ہوں تو مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ قرآن کی آیت (و اعطاکم من کل ما سألتموه) کی تفسیر ہے۔ وہ براہِ راست خداوندِ عالم کا عطیہ ہے نہ کہ حقیقتہ انسانی سائنس کا عطیہ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader