Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

امریکہ کا سفر

Urdu book, p. 320

By Maulana Wahiduddin Khan

کتابوں میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے عرب میں کچھ لوگ تھے جن کو حنفا کہا جاتا ہے۔ یہ لوگ عرب کے جاہلی دین پر مطمئن نہ تھے۔ ان کی فطرت سچے دین کی تلاش میں تھی ۔ زید بن عمرو یہ کہتے ہوئے مرے گئے کہ خدایا، اگر میں جانتا کہ تیری پسندیدہ عبادت کیا ہے تو اسی طرح میں تیری عبادت کرتا، مگر میں اس کو نہیں جانتا۔ ایک مرتبہ اس طرح کے کچھ لوگ جمع ہوئے ۔ انھوں نے آپس میں کہا: جان لو کہ خدا کی قسم، تمہاری قوم کسی چیز پر نہیں ہے۔ انھوں نے دینِ ابراہیم کو بگاڑ دیا ہے۔ پس نکلو اور سچے دین کو تلاش کرو۔ چنانچہ وہ لوگ مختلف ملکوں کی طرف نکل پڑے (سیرۃ ابن ہشام، سیرۃ ابن کثیر، جلد اوّل) جنیوا کے مذکورہ تجربہ کے بعد مجھے ایسا محسوس ہوا کہ عرب کے حنفا کی طرح دورِ جدید میں دوبارہ حنفا کی ایک نسل پیدا ہو گئی ہے جو زبانِ حال سے کہہ رہی ہے کہ خدایا ، مجھے نہیں معلوم کہ کس طرح میں تیری عبادت کروں ۔ اگر میں جانتا تو میں اسی طرح تیری عبادت کرتا۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ جدید انسان کی رہنمائی کا انتظام فرمائے ، اور بلاشبہ وہی انتظام فرمانے والا ہے ۔ اس دوران میری ملاقات ایک امریکی سیاح سے ہوئی ۔ وہ پروٹسٹنٹ مذہب سے تعلق رکھتے ہیں ان سے میں نے پوچھا کہ آپ دنیا کے بہت سے ملکوں میں گئے ہیں، آپ کو سب سے زیادہ کون سا ملک پسند آیا۔ انھوں نے کہا کہ سوئزرلینڈ مجھ کو سب سے زیادہ پسند آیا۔ بے حد صاف ، بے حد مستعد (Very neat, very efficient) پھر میں نے انڈیا کے بارے میں پوچھا۔ انھوں نے ہنس کر کہا کہ میں نے انڈیا کا سفر کیا ہے۔ انڈیا کی بہت سی چیزیں مجھے پسند ہیں۔ گرو ہاں بیوروکریسی اتنی زیادہ ہے کہ اس کی مثال کہیں اور نہیں ملے گی ۔ انھوں نے کہا کہ سوئزرلینڈ میں بھی قواعد و ضوابط بہت زیادہ ہیں۔ مگر سوئزرلینڈ کے کسی سرکاری دفتر میں آپ ایک کام کے لیے جائیں تو ایک آدمی کی میز پر پہنچ کر آپ کا سارا کام 10 منٹ میں پورا ہو جائے گا۔ جب کہ انڈیا میں میں دو بار گیا ہوں ۔ وہاں کے کسی سرکاری دفتر میں جائیے تو ہر آدمی آپ کو دوسرے آدمی کے پاس بھیجے گا۔ آپ ایک آدمی سے دوسرے آدمی اور دوسرے آدمی سے تیسرے آدمی کے پاس جاتے رہیں گے پھر بھی یقینی نہیں ہے کہ آپ کا کام آپ کی مرضی کے مطابق ہو جائے ۔ جنیوا ایک بے حد صاف ستھرا شہر ہے ۔ یہاں کے بارے میں ایک دل چسپ لطیفہ معلوم ہوا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page