ریاض کا سفر
Urdu book, p. 33
By Maulana Wahiduddin Khan
تھے ۔ بہت سے لوگوں کے بیک وقت بولنے کی وجہ سے اتنا شور ہو رہا تھا کہ ان کے الفاظ سمجھنے میں مجھے دیر لگی۔ ان کے نعرے یہ تھے: اللہ اکبر خمینی رہبر مرگ بر منافق ۔ مرگ بر امریکہ ۔ حزب فقط حزب اللہ رہبر فقط روح اللہ۔ لا شرقیہ لا غربیة جمہور یہ اسلامیہ یہ لوگ اچھل رہے تھے ، ہاتھ پھینک رہے تھے اور چیخ چیخ کر نعرے لگارہے تھے۔ دل کا حال تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے ۔ مگر جہاں تک ظاہر کا تعلق ہے ، مجھے ان کے چہروں پر دینی سنجیدگی نظر نہ آئی۔ میں نے سوچا : آج اگر صحابہ کرام ہوتے تو کیا وہ اسی طرح عمل کرتے ۔ میرا مقالہ (حج کی دعوتی اہمیت ) ۴ اگست ۱۹۸۴ کو صبح کی نشست میں تھا۔ میں اپنا مقالہ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں تیار کر کے لے گیا تھا ۔ مگر وہاں ایک قابلِ لحاظ تعداد ایسے لوگوں کی تھی جو اردو جانتے اور سمجھتے تھے ۔ نیز تقریر کے ساتھ فوری ترجمہ کا عمدہ انتظام تھا۔ اس لئے میں نے اپنا مقالہ اردو میں پڑھا۔ البتہ مقالہ شروع کرنے سے پہلے چند جملے انگریزی میں کہے جن کا خلاصہ یہ تھا : I am going to present my paper in Urdu. As the Arabic and English versions may be heard on your headsets, I hope you will not mind it. مسلم انسٹی ٹیوٹ (لندن) کی فرمائش پر میں نے دو مضامین تیار کئے تھے۔ ایک حج کے فلسفے کے بارے میں۔ اور دوسرا حج کے مسائل پر ۔ یہ دونوں مقالے ( حج کی دعوتی اہمیت ، حج کا طریقہ ) دو الگ الگ پمفلٹ کی صورت میں انسٹی ٹیوٹ کی طرف سے شائع کر کے تقسیم کئے گئے ۔ اس کے علاوہ سیمنار کے آخری دن ، اگست کو میری ایک تقریر ہوئی۔ اس تقریر میں حج کے اخلاقی پہلو کی وضاحت کی گئی۔ اس تقریر کا انگریزی ترجمہ بھی سائیکلو اسٹائل کر کے تقسیم کیا گیا۔ کناڈا کے پندرہ روزہ اخبار (کریسنٹ انٹرنیشنل ) نے لندن کے حج سیمنار پر جو رپورٹ شائع کی ہے اس کا ایک حصہ علیحدہ صفحہ پر نقل کیا جارہا ہے۔ ۸ اگست ۱۹۸۲ کی صبح کو ۱۰ بجے میں لندن سے واپس روانہ ہوا ۔ تقریباً ۱۳ گھنٹے کی پرواز کے بعد مجھے رات کو دہلی پہنچ جانا چاہئے تھا ۔ گردفت میں فرق کی وجہ سے یہ ہوا کہ جب میں دہلی پہنچا تو یہاں کی مقامی گھڑیوں میں صبح کے چار بج رہے تھے۔ لندن جاتے ہوئے میں نے تقریباً پانچ گھنٹے “حاصل“ کئے تھے۔ لندن سے واپسی میں میں نے پانچ گھنٹے کھو دئے ۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر پانے کے لئے آدمی کو کچھ کھونا پڑتا ہے ۔ اس دنیا میں کھوئے بغیر کسی کے لئے کچھ پانا ممکن نہیں ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader