ریاض کا سفر
Urdu book, p. 35
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ ادارہ طرابلس میں قائم ہے اور اپنی وسعت کے اعتبار سے ایک یونیورسٹی کا درجہ رکھتا ہے۔ اس ادارہ کا مقصد یہ ہے کہ مسلم نوجوانوں کو اسلام کے ماضی اور حال سے واقف کرایا جائے۔ اسلام کی فکری عظمت اور اس کی عملی افادیت ان کے ذہن پر بیٹھا ئجائے۔ ایسے داعی تیار کئے جائیں جو دنیا کے مختلف حصوں میں اسلام کی دعوت کا کام کریں۔ اس کلیہ میں تعلیم کی مدت چار سال ہے اور اس میں ایم اے اور ڈاکٹریٹ کے درجہ تک کی ڈگریاں دی جاتی ہیں۔ اس کا نصاب کلیہ کے مطبوعہ پمفلٹ کے مطابق حسب ذیل مضامین پر مشتمل ہے : التفسیر وعلوم القرآن، الحدیث و علوم السنه، الفقه الاسلامی، تاریخ التشریع الاسلامی، التاریخ الاسلامی، الاستشراق والتنبشیر، حاضر العالم الاسلامی، علم النفس العام، علم الاجتماع، الادیان ومقارنتہا، الفرق الاسلامیہ، التیارات الفکریہ المعاصره، التصوف و تاریخہ، علم الاخلاق، الحضارة الاسلامیه، الفلسفة الاسلامیه، علم النفس الاجتماعی، اللغات الادروپيه، اللغات الشرقیہ ہندوستان اور طرابلس کے درمیان چھ ہزار کلومیٹر کا فاصلہ ہے۔ ہندوستان میں ”طرابلس“ کا لفظ غالباً سب سے پہلے ۱۹۱۱ میں عام ہوا جب کہ اٹلی کی ۳۵ سالہ حکومت نے اپنے اقتدار کو بچانے کے لئے لیبی عوام پر مظالم کئے ۔ اس وقت ہندوستان کے اخبارات نے مضامین لکھے اور شاعروں نے نظمیں کہیں ۔ اسی زمانہ میں اقبال نے اپنی مشہور نظم کہی تھی اس کے دو اشعار یہ تھے : مگر میں نذر کو اک آبگینہ لایا ہوں جو چیز اس میں ہے جنت میں بھی نہیں ملتی جھلکتی ہے تری امت کی آبرو اس میں طرابلس کے شہیدوں کا ہے لہو اس میں میں طرابلس ایسے موقع پر پہنچا جب کہ لبنان میں فلسطینی مسلمانوں کے اوپر اسرائیل کے وحشیانہ مظالم (۱۹۸۲) جاری تھے۔ اس کے بعد جس طرح ذلت کے ساتھ فلسطینیوں کو لبنان چھوڑنا پڑا، اس کی چیخ و پکار سے تمام عرب اخبارات بھرے ہوئے نظر آئے۔ اگر مذکورہ تقابل کو دیکھا جائے تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ ملت اسلامیہ نے ۱۹۱۱ سے لے کر ۱۹۸۲ تک آگے کی طرف سفر طے نہیں کیا۔ ملت اسلامیہ ستر سال پہلے جس طرح ظالموں کے مقابلہ میں بے بس تھی ۔ اسی طرح دہ ستر سال بعد بھی ظالموں کے مقابلہ میں بے بس ہے ۔ جس ملت کے لئے دور اول میں غلبہ مقدر کیا گیا تھا ، کیا بعد کے دور میں اس کے لیے صرف مظلومیت اور مغلوبیت مقدر کردی گئی ہے ۔ دہلی سے لیبیا کے لئے ابھی تک براہ راست ہوائی سروس نہیں ہے ۔ ہم نے دہلی سے ایتھنز تک ڈچ ہوائی کمپنی (KLM) کے ذریعہ سفر کیا اور ایتھنز سے طرابلس کے لئے اولمپک ایرویز کے ذریعہ ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader