Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

افریقہ کا سفر

Urdu book, p. 357

By Maulana Wahiduddin Khan

گل حسن تسھیم (پیدائش ۱۹۲۹) جیکب آباد کے رہنے والے ہیں۔ ان سے میں نے سندھ کے ہندوؤں کے بارہ میں پوچھا۔ انھوں نے کہا کہ سندھ کے ہندو سندھ کے مسلمانوں سے زیادہ خوش حال ہیں“ ”ہماری بات گورنمنٹ میں کم سنی جاتی ہے اور ہندوؤں کی بات گورنمنٹ میں زیادہ سنی جاتی ہے“ انھوں نے کہا ”یہاں کا ہندو ہماری چھاتی پر بیٹھا ہوا ہے اور ہم اس کو چوم رہے ہیں۔“ اس کی وجہ کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہندو لوگ مسلمانوں سے زیادہ با شعور ہیں۔ میرٹھ کے فساد کے بعد اس کے رد عمل میں ۱۹۶۱ء میں جیکب آباد وغیرہ میں مسلمانوں نے ہندوؤں کی دکانیں توڑیں، مندر جلائے۔ مگر ہندوؤں نے کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا۔ اس فساد میں ہندوؤں کا تقریباً پانچ کروڑ روپیہ کا نقصان ہوا۔ مگر جس وقت ان کی دکانوں میں آگ لگ رہی تھی وہ اپنے گھروں میں چلے گئے اور دروازہ بند کر کے بیٹھ گئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ خود مسلمانوں نے اور پولیس نے ان کی آگ بجھائی۔ وہ بڑے سیانے لوگ ہیں۔“ گل حسن تسھیم نے کہا کہ ہماری سندھی زبان میں ایک مثل ہے اور یہاں کے ہندو پوری طرح اس پر عمل کرتے ہیں۔ وہ مثل اس طرح ہے : جا سکتھے جاگت نا ہیں ہتھیارن جی اتے سمجھن کم وریان جو جھلا ہتھیار کام نہ دیں وہاں بھاگ جانا ہی دانش مندی ہے، انھوں نے بتایا کہ اس ہوشیاری کا نتیجہ ہندوؤں کو یہ ملا ہے کہ جیکب آباد کی تجارت آج ہندوؤں کے ہاتھ میں ہے۔ گورنمنٹ نے زراعت کے لئے ”انٹرسٹ فری لون“ کی اسکیم چلائی تو اس کا بھی زیادہ فائدہ ہندوؤں کو ملا۔ انھوں نے بتایا کہ جیکب آباد میں تقریباً تمام رائس ملیں ہندوؤں کی ہیں۔ ہندو اس کام کو نہایت ہوشیاری کے ساتھ کرنے ہیں۔ مثلاً وہ برائے نام کسی مسلمان کو اپنی مل میں حصہ دار بنا لیں گے اور اس کے بعد اس کا نام ”اسماعیل رائس مل“ رکھ دیں گے ۔ وغیرہ وغیرہ۔ ۱۴ جون ۱۹۸۷ء کی دوہر کو میں کراچی سے طرابلس پہنچا۔ یہاں میرا قیام الفندق الکبیر کے کمرہ نمبر ۳۰۳ میں تھا۔ ٹیلیو ثرن پر اعلان کی وجہ سے فوراً ہی بہت سے لوگوں کو اطلاع ہو گئی۔ چنانچہ شہر کے کئی لوگ اسی دن ملنے کے لئے آگئے ۔ تقریباً ایک درجن عرب نوجوان بھی جمع ہو گئے۔ عرب نوجوانوں پر عام طور پر سید قطب کے انقلابی فکر کا غلبہ ہے۔ میں نے اسی کو گفتگو کا موضوع بنایا۔ میں نے کہا کہ یہ اسلام کی سراسر غلط تفسیر ہے۔ اور اس تفسیر نے پوری نسل کو بر باد

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page