Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

ریاض کا سفر

Urdu book, p. 37

By Maulana Wahiduddin Khan

ہیں ۔ جہاں لوگوں کے پاس صرف اپنے تالے کی کنجیاں ہوں وہاں لوگ اکثر یہ حقیقت بھول جاتے ہیں کہ کوئی ایسی شاہ کلید بھی ہوسکتی ہے جس کے ذریعہ ان کے اپنے تالے سمیت تمام تالوں کو کھولا جا سکے ۔ ہندوستان میں ”بائیں چلو“ کا اصول ہے اور لیبیا میں ”دائیں چلو“ کا اصول نئی دہلی کا کوئی آدمی ایسا نہیں کرے گا کہ وہ طرابلس کی سڑک پر ”بائیں چلو“ کے اصول پر اپنی گاڑی دوڑانے لگے۔ اسی طرح طرابلس کا ایک آدمی کبھی ایسا نہیں کر سکتا کہ وہ نئی دہلی کی سڑک پر ”دائیں چلو“ کے اصول پر عمل کرے اور اپنی گاڑی لے کر دائیں رخ پر دوڑنے لگے۔ سڑکوں کے بارے میں ہر آدمی اس قانون کو جانتا ہے مگر زندگی کے معاملہ میں ہر آدمی اس اصول کو بھول جاتا ہے۔ یہاں ہر آدمی اس خوش فہمی میں مبتلا ہے کہ اسے کسی ” خارجی قانون“ کی پابندی کرنے کی ضرورت نہیں۔ وہ اپنے ذوق کے مطابق خواہ مخاہ اپنی طرف اپنی زندگی کی گاڑی دوڑائے یا بائیں طرف ۔ کانفرنس کا افتتاح ۱۴ اگست کی شام کو ہوا۔ اس کے بعد پانچ روز تک باقاعدہ کارروائی جاری رہی۔ ہر روز کا اجلاس کسی خاص آدمی کی صدارت میں ہوا۔ ایک دن (۱۵ اگست) کی نشست کے لئے راقم الحروف کو صدر جلسہ (یہاں کی اصطلاح میں امین جلسہ) بنایا گیا۔ میں نے اپنی صدارتی تقریر انگریزی میں کی اور اس میں چند باتیں کہیں ۔ اس کا خلاصہ یہ تھا کہ اس وقت دنیا بھر کے مسلمان یہاں ایک چھت کے نیچے جمع ہیں۔ ان کو جس چیز نے یکجا کیا ہے وہ اسلامی دعوت ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلامی دعوت ایک ایسا عنوان ہے جس پر تمام مسلمانوں کا اتحاد ہو سکتا ہے۔ پھر کیوں ہم ان عنوانات پر زور آزمائی کریں جن میں مسلمان ایک دوسرے سے الگ ہو جاتے ہیں۔ اس کے بجائے ہم کو دعوت کے مقصد کو لے کر آگے بڑھنا چاہئے جو اتحاد و اتفاق پیدا کرتا ہے اور اتحاد و اتفاق بلا شبہ سب سے بڑی قوت ہے۔ کانفرنس کی کارروائی چھ دن جاری رہی۔ پروگرام کی تفصیل مطبوعہ نقشہ کے مطابق حسب ذیل تھی : ۱۴ اگست الا افتتاح ۱۵ اگست الدعوة الاسلامية فى عالمنا المعاصر 16 اگست الدعوة الاسلامية ومشكلات المسلمين ۱۷ اگست قضية الحرية في العالم الاسلامی ۱۸ اگست الاسلام وتحديات العصر بيان المؤتمر والتوصيات الختامية

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page