Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

افریقہ کا سفر

Urdu book, p. 385

By Maulana Wahiduddin Khan

جمہوری انداز کی ہر میٹنگ یا کانفرنس میں میں نے یہی منظر دیکھا ہے۔ ہمارے لیڈر جو جمہوریت کی حمایت میں پرجوش تقریریں کرتے ہیں، انہیں اس سے پہلے لوگوں کے اندر یہ صلاحیت پیدا کرنی چاہئے کہ وہ فکری انضباط کے ساتھ سوچنے کے قابل ہوسکیں۔ مدرسہ کی تعلیم کے زمانہ میں میرے ایک ساتھی محمد عبد الرشید برمی تھے۔ وہ رنگون کے رہنے والے تھے۔ اپنے ملک واپس جانے کے بعد انھوں نے ” برمی مسلم آرگنائزیشن“ کے نام سے ایک جماعت بنائی۔ وہ اس کے صدر تھے۔ یہ تنظیم برما میں بہت مقبول ہوئی۔ وہ ایک اچھے مقرر تھے انھوں نے الیکشن میں حصہ لیا۔ پارلیمنٹ کے ممبر منتخب ہوئے اور اس کے بعد ”لیبر اینڈ انڈسٹری“ محکمہ کے وزیر تقرر ہوئے۔ دوسرے ممالک سے برما کے تعلقات قائم کرنے میں انھوں نے اہم رول ادا کیا اور ملک میں غیر معمولی مقبولیت حاصل کی۔ مالدیپ کی کانفرنس میں برما کے ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ وہ عبد الرشید دایم لے رشید) کے ساتھیوں میں سے تھے۔ ان سے ان کے بارہ میں کافی معلومات حاصل ہوئیں ۔ انھوں نے بتایا کہ ۱۹۶۲ میں جب برما میں فوجی حکومت قائم ہوئی اور اس نے منتخب حکومت کو ختم کر دیا تو عبد الرشید صاحب کھل کر اس کے خلاف تنقیدیں کرنے لگے : He used to criticise the government openly چنانچہ حکومت ان کی مخالف ہوگئی۔ آخر عبد الرشید صاحب پاکستان چلے گئے اور وہیں ۱۹۸۰ میں ان کا انتقال ہو گیا۔ انھوں نے مزید بتایا کہ عبد الرشید صاحب نے اپنی وزارت کے زمانہ میں علماء کی ایک کمیٹی بنائی تھی۔ اس کمیٹی نے قرآن کا ترجمہ برمی زبان میں کیا۔ تاہم اس کے چھپنے سے پہلے عبد الرشید صاحب کی حکومت ختم ہو گئی ۔ بعد کو قرآن کا یہ ترجمہ خود موجودہ حکومت کے تعاون سے شائع ہوا۔ موجودہ حکومت مسلم تنظیموں کو ۶۵۰۰۰ چاٹ ( برمی سکہ) سالانہ امداد دیتی ہے۔ اسی سے مذکورہ ترجمہ قرآن شائع کیا گیا ہے۔ میں نے کہا کہ عبد الرشید صاحب نے ختم حکومت کے بعد جو راستہ اختیار کیا ، وہ یہ تھا کہ نئی حکومت کے مخالف بن کر کھڑے ہوں اور بالا آخر پاکستان جاکر خاموشی کے ساتھ فوت ہو جائیں۔ اس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page