ریاض کا سفر
Urdu book, p. 39
By Maulana Wahiduddin Khan
آخری دن کی کارروائی میں اتفاق رائے سے اسلامی دعوت کا کام انجام دینے کے لئے مختلف ملکوں سے ایک عالمی کونسل (مجلس عالمی للدعوۃ الاسلامیہ) بنائی گئی جو اس مؤتمر عام کے لئے مجلس تنفیذی کے طور پر کام کرے گی۔ اس کونسل میں راقم الحروف کا نام شامل کرنے کا اعلان کیا گیا۔ اس عالمی کونسل کا ہر سال کم از کم ایک اجلاس طرابلس میں ہوا کرے گا۔ اس کے ممبران کی مجموعی تعداد ۳۶ ہے۔ ۱۷ اگست ۱۹۸۲ء کو میرا مقالہ تھا۔ میرے مقالہ کے ساتھ عجیب قصہ پیش آیا۔ طرابلس کے سفر سے پہلے مجھے لندن کا سفر کرنا پڑا۔ وہاں سے واپسی کے فوراً بعد طرابلس کے لئے روائگی تھی۔ اس ہنگامی صورت حال کی وجہ سے طرابلس کی کانفرنس کے لئے کوئی مستقل مقالہ تیار کرنے کا موقع نہ تھا۔ لندن کے سفر پر جاتے ہوئے میں نے برادرِ مکرم مولانا محسن عثمانی ندوی ایم اے کو اپنی مطبوعہ کتاب الاسلام متحدی دی اور ان سے کہا کہ اس سے معلومات لے کر ایک مقالہ تیار کر دیں۔ انھوں نے مقالہ تیار کیا اور وہ ہندوستان کے لہی سفارت خانہ کی معرفت طرابلس پہنچ کر وہاں سائیکلو اسٹائل بھی ہوگیا۔ میں اسی مقالہ کو لے کر طرابلس پہنچا اور ذہن میں یہ تھا کہ اسی کو وہاں کی کانفرنس میں پڑھنا ہے۔ اس درمیان میں ایسا ہوا کہ میں نے ایک امریکی نو مسلم کو ایک دن پہلے یہ مقالہ پڑھنے کے لئے دیا جو عربی زبان اچھی طرح جانتے تھے۔ انھوں نے پڑھنے کے بعد کہا کہ یہ تو آپ کی کتاب الاسلام متحدی کا خلاصہ ہے۔ اس کے بعد معلوم ہوا کہ تقریباً پانچ سو آدمی جو مقالہ پڑھتے وقت ہال میں موجود ہوں گے ان میں سے بیشتر الاسلام متحدی کو پڑھ چکے ہیں۔ وہ یقینی طور پر محسوس کریں گے کہ وہی پچھلی بات ان کے سامنے دہرا دی گئی ہے۔ یہ خبر میرے لئے بڑی سخت تھی۔ کیونکہ اگلے ہی دن مقالہ پڑھا جانے والا تھا اور درمیان میں صرف ایک رات کا موقع تھا۔ بہر حال میں نے اللہ کے بھروسہ پر ایک نیا فیصلہ کیا۔ میں نے طے کیا کہ میں ایک نیا مقالہ تیار کروں گا۔ میں نے ذمہ داروں سے نیا مقالہ پڑھنے جانے کی اجازت لی۔ اس کے بعد ایک مصری نوجوان کو معاونت کے لئے تیار کیا۔ یہ تھے : محمد سعید مراد - ۱۲ شارع سعيد متفرع من شارع طومان بای - حلمية الزيتون - القاهرة طے شدہ پروگرام کے مطابق ہم دونوں فندق باب البحر (طرابلس) کی گیارھویں منزل پر کمرہ نمبر ۴۳ میں عشار کی نماز پڑھ کر بیٹھے۔ طریقہ یہ اختیار کیا گیا کہ مقالہ کا مضمون میں اپنی ہندوستانی عربی میں کہتا اور کبھی کبھی انگریزی میں اس کی تشریح کرتا۔ اس کے بعد محمد سعید مراد مصری اس کو اپنی فصیح عربی میں لکھتے۔ یہ سلسلہ ساری رات جاری رہا۔ یہاں تک کہ جب فجر کی اذان ہوئی تو ہمارا مقالہ تیار ہو چکا تھا۔ اگلے دن دوپہر بعد کی نشست میں اس کو پڑھنا تھا۔ اس وقت تک سائیکلو اسٹائل ہو کر اس کی کاپیاں بھی تیار ہوگئیں ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader