Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

یمن کا سفر

Urdu book, p. 444

By Maulana Wahiduddin Khan

۳۱ اکتوبر کی دوپہر کو عبد اللہ الصالح (رئیس جمہوریہ یمن) سے یہاں کے ”قصر“ میں ملاقات ہوئی۔ یہ اجتماعی ملاقات تھی۔ فرداً فرداً ملاقات کے بعد رئیس نے ایک مختصر خطاب کیا۔ اس میں انہوں نے اس تصور کو پسند کیا کہ اسلام کو ایک دعوتی قوت کی حیثیت سے اٹھایا جائے۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت بہت سی اسلامی جماعتیں اسلام کے نام پر سیاسی جھگڑوں میں مشغول ہیں۔ اس کے بجائے اگر وہ دعوتی محاذ پر کام کریں تو یہ ان کی صلاحیتوں کا زیادہ بہتر استعمال ہوگا۔ ۳۱ اکتوبر کی شام کو سبا ہوٹل (Taj Sheba Hotel) میں ایک خصوصی میٹنگ ہوئی۔ اس میں کانفرنس کے بیرونی شرکا اور یمن کے مقامی علماء جمع ہوئے۔ کارروائی کا آغاز تلاوت قرآن سے ہوا۔ اس کے بعد قاضی علی العثمان (وزیر الاوقاف) نے ابتدائی خطاب کیا۔ وہ خالص عالمانہ حلیہ میں تھے ۔ اس موقع پر وزارت اوقاف کے اکثر ذمہ داران موجود تھے۔ معلوم ہوا کہ وزیر، نائب وزیر اور دوسرے اکثر تعلیم یافتہ افراد میری کتابیں پڑھے ہوئے ہیں۔ لوگوں کا شدید اصرار تھا کہ میں کانفرنس کے بعد مزید ٹھہروں تاکہ یہاں کی یونیورسٹی اور دوسرے اداروں میں میرے محاضرات رکھوائے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کو جب معلوم ہوگا کہ آپ یہاں آئے تو ان کو سخت شکایت ہوگی کہ آپ سے ملاقات اور محاضرہ کا پروگرام کیوں نہیں رکھوایا گیا۔ مگر وقت کی کمی کے باعث میں نے عذر کر دیا۔ سبا ہوٹل کے جس ہال میں اس ملاقات کا انتظام کیا گیا تھا، وہاں دیوار پر جلی حرفوں میں لکھا ہوا تھا: الدعوة الى الله : رسالة الانبياء وميراث العلماء ونهج الصالحين اس نشست میں تقریباً ۵۰ آدمی شریک ہوئے۔ مگر لوگوں کی گفتگوؤں سے ایسا معلوم ہوا کہ کسی پر پوری طرح یہ واضح نہیں ہے کہ ”دعوت الی اللہ کیا ہے۔ اکثر لوگ دعوت سے آغاز کرکے مبشرین اور مستشرقین اور صہیونیین کے پیدا کردہ مسائل پر اظہار خیال کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ حالاں کہ یہ سب دفاعی مسائل ہیں نہ کہ دعوتی مسائل۔ ایک صاحب نے ان الفاظ کے ساتھ اپنی تقریر شروع کی : هل لنا ان نتسائل ما هو دور العلماء اليوم في إيقاظ الامة ودفعها لإقامة حضارة إسلامية جديدة کیا ہم اپنے آپ سے یہ سوال کریں گے کہ امت کو بیدار کرنے میں اور اسلامی تہذیب کو قائم کرنے میں علماء کا رول کیا ہے)، مگر چند جملوں کے بعد ہی ذہن کی گاڑی "حل مشاكل" اور مقابلہ اعداء کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page