Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

یمن کا سفر

Urdu book, p. 446

By Maulana Wahiduddin Khan

مسلمان ہر جگہ بس اسی قسم کے مسائل میں الجھے ہوئے ہیں۔ وہ اب تک زندگی کے اس راز کو نہ جان سکے کہ اس قسم کے ”مسائل“ ہر زمانہ میں ہوتے ہیں اور ہر زمانہ میں لازماً باقی رہیں گے یہاں تک کہ قیامت آجائے۔ ہمارا کام اس قسم کے ”خطرات“ کا انکشاف کرنا نہیں ہے۔ ہمارا مقصد ان مواقع کار کو تلاش کرنا ہے جو ہر حال اور ہر مقام پر موجود رہتے ہیں۔ ہمیں خطرات کو نظر انداز کرتے ہوئے مواقع کو استعمال کرنا چاہیے۔ یہی زندگی کا راز ہے۔ اسی تدبیر کے ذریعہ دور اول میں اسلام کی تاریخ بنی تھی۔ آئندہ بھی جب اسلام کی تاریخ بنے گی، اسی تدبیر کے ذریعہ بنے گی ۔ اگر مسلمان خطرات کے خلاف رد عمل میں مشغول رہے تو اسلام کی جدید تاریخ بننے والی نہیں، خواہ اس قسم کے رد عمل میں ایک کروڑ سال کیوں نہ صرف کر دیئے جائیں۔ میں نے کہا کہ مغرب نے تسخیر کائنات کے امکان کو استعمال کرکے موجودہ غلبہ حاصل کیا ہے۔ مگر تسخیر قلوب کے امکان کو استعمال کرنے کا میدان ابھی خالی ہے۔ جو قوم اس دوسرے امکان کو استعمال کرے گی وہ مغربی تاریخ سے بھی زیادہ بڑی تاریخ بنائے گی۔ تاہم اندازہ ہو کہ اس طرح کی بات صرف ایک تقریر سے لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتی۔ اس کے لیے مسلسل ذہنی خوراک پہونچانے کی ضرورت ہے۔ یہ کام موثر طور پر صرف اس وقت ہو سکتا ہے جب کہ الرسالہ کا عربی ایڈیشن نکلنے لگے۔ معلوم ہوا کہ کچھ عرب حضرات بطور خود الرسالہ کا عربی ایڈیشن نکالنے کی تدبیر کر رہے ہیں۔ یمن قوم سبا کا وطن رہا ہے۔ سبا کا دار السلطنت مارب تھا۔ اس کے نام پر سد مارب یہاں کا مشہور ترین تاریخی مقام ہے۔ ۲ نومبر ۱۹۸۸ء کی صبح کو صنعاء سے مارب کے لیے روانگی ہوئی۔ یہ مقام صنعاء سے تقریباً ۱۲۰ کلومیٹر کے فاصلہ پر واقع ہے۔ شروع سے آخر تک نہایت عمدہ سڑک ہے جو کویت کے تعاون سے بنائی گئی ہے۔ تقریباً پورا راستہ پہاڑوں کے درمیان طے ہوا۔ ان پہاڑوں میں ہر قسم کے پتھر پائے جاتے ہیں۔ قدیم زمانہ میں یمن کا عقیق (قیمتی سرخ پتھر) بہت مشہور تھا۔ ایک شاعر نے دنیا کی بے ثباتی کی تصویر کشی کرتے ہوئے کہا ہے : اشک یخ بستہ عبرت ہیں عدن کے موتی خون افسردہ حسرت ہے عقیقِ یمنی تین ہزار سال پہلے یمن کے لوگوں نے جو سد مارب بنایا تھا۔ وہ آج بھی انسانی ذہانت کا اعلیٰ ترین نمونہ ہے۔ خود اس علاقہ میں زیادہ بارش نہیں ہوتی۔ بہت بڑے علاقہ کی بارانی بارش

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page