یمن کا سفر
Urdu book, p. 473
By Maulana Wahiduddin Khan
کو یہ جرات ہو کہ وہ ٹوٹنی دار لوٹے کو مسلم تہذیب کا نشان بنا کر اس کا مذاق اڑائے۔ اس کے بعد لوٹے کا مذاق اڑانا خود اپنی بد ذوقی کا اشتہار دینے کے ہم معنی بن جاتا، اور کون ہے جو اپنی بد ذوقی کا اشتہار دینا پسند کرے ۔ کانفرنس کے دوران عربوں کے پیچھے نماز پڑھنے کا موقع ملا۔ ۲۴ دسمبر کو فجر کی نماز کے لیے مقررہ ہال میں پہنچا تو وہاں دوسرے لوگوں کے ساتھ ڈاکٹر جمال بدوی موجود تھے۔ وہ مصری ہیں اور آج کل کناڈا میں رہتے ہیں۔ انھوں نے مجھ سے نماز پڑھانے کے لیے اصرار کیا۔ میں نے یہ کہہ کر ان کو آگے بڑھا دیا: الامّة من العرب، وانا احب ان اسمع قرأة العرب - فنی قاریوں کی قرات مجھے پسند نہیں۔ مگر عربوں کی سادہ قرات مجھے بے حد پسند ہے۔ ایک عرب عالم جب قرآن کی قرات کرتا ہے تو اس کو سن کر مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کہ صوتی لہروں پر میرا رشتہ ماضی سے قائم ہو گیا ہے۔ یہ سوچ کر ایک ارتعاش (thrill) کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے کہ صحابہ کرام بھی اسی طرح قرآن کو پڑھتے ہوں گے۔ یہ اسلام کی ایک نادر خصوصیت ہے جو آج کسی بھی دوسرے مذہب کو حاصل نہیں ۔ دوسرے مذاہب کی کتابیں جن زبانوں میں تھیں وہ آج مردہ نہ بانیں بن چکی ہیں۔ یہ زبانیں جس لہجہ میں اپنے ابتدائی زمانے میں بولی جاتی تھیں، ان کا تسلسل بعد کی تاریخ میں قائم نہ رہ سکا ۔ اس لیے آج یہ جاننا ناممکن ہے کہ قدیم مذاہب کی مقدس کتابوں کو ان کے ابتدائی حاملین کس طرح پڑھتے تھے۔ مگر قرآن کی زبان پوری طرح ایک زندہ زبان ہے۔ اس کا لہجہ تواتر کے ساتھ تاریخ میں سفر کرتا ہوا ہم تک پہنچ رہا ہے۔ آج کا ایک فصیح عرب عالم جب قرآن کو پڑھتا ہے تو وہ عین وہی لہجہ ہوتا ہے جس میں اصحاب رسول قرآن کو پڑھتے تھے۔ اس طرح ہر فصیح عرب عالم گویا صحابہ کرام کی قرات قرآن کا زندہ ٹیپ ہے۔ اللہ تعالی کا کیسا عجیب احسان ہے جو " قرآن محفوظ " کی صورت میں انسانیت کے حصہ میں آیا ہے۔ قومی آواز (۱۳ جنوری ۱۹۸۹) میں ایک عالم کی تقریر نقل ہوئی ہے۔ موصوف نے ایک عربی مدرسہ میں تقریر کرتے ہوئے کہا : اللہ تعالی نے قرآن اور اس کی زبان کی حفاظت کا ذمہ لیا ہے جس کی وجہ سے ڈیڑھ ہزار سال سے یہ کلام اور زبان آج تک ایک حرف کی تبدیلی کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader