Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

یمن کا سفر

Urdu book, p. 496

By Maulana Wahiduddin Khan

تیار ہو رہی ہیں ۔ ۱۹۷۶ میں دنیا کی ترقی یافتہ ملک ٹیکنالوجی کا ۷۶ فی صد امریکہ میں تیار ہوتا تھا۔ اب اس کی مقدار صرف ۳۰ فی صد رہ گئی ہے ۔ کوئی شخص یا قوم خواہ وہ کتنا ہی زیادہ طاقتور ہو، اس کی طاقت محدود ہوتی ہے۔ طاقت کے اندر اقدام کرنا کامیابی کی طرف لے جاتا ہے اور طاقت کے باہر اقدام کرنا بربادی کی طرف۔ ایک لطیفہ پڑھنے کو ملا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ زمانہ میں مذہبی طبقہ کی اہمیت کیوں کم ہو گئی ہے۔ اگر سب نہیں تو کم از کم ایک وجہ یقیناً یہی ہے جو اس لطیفہ میں بتائی گئی ہے۔ ۸۶ سال کی ایک بوڑھی عورت پہلی بار ہوائی جہاز میں سفر کر رہی تھی ۔ اس نے دوران پرواز جہاز کے عملہ کی طرف سے ایک اعلان سنا : آپ کا کیپٹن آپ سے ہم کلام ہے ۔ بعض مشینی خرابی کی وجہ سے ہمارے چوتھے انجن نے کام چھوڑ دیا ہے۔ تاہم اس میں پریشانی کی کوئی بات نہیں ہے۔ ہم تین انجن کے ذریعہ اپنی پرواز جاری رکھیں گے اور وقت پر اپنی منزل پر اتر جائیں گے۔ مزید میرے پاس آپ کے لیے کچھ قابل اطمینان خبر بھی ہے ۔ ہم اپنے ساتھ جہاز میں چار پادری رکھتے ہیں۔ بوڑھی خاتون جو اعلان کو بغور سن رہی تھی، اس نے جہاز کے عملہ کے ایک شخص کو بلا کر کہا : براہ کرم کیپٹن سے یہ کہدیں کہ میں اس کو زیادہ پسند کروں گی کہ ہمارے پاس چار انجن ہوں اور تین پادری: An 86-year-old woman who was flying for the first time heard the following announcement come over the plane's intercommunication system. “This is your captain speaking. Our number four engine has just been shut off because of mechanical trouble. However, there is nothing to worry about. We will continue our flight with three engines and will land on schedule. Also, I have some really reassuring news for you. We have four priests on board." The elderly passenger, who had been listening apprehensively, called the flight attendant. "Would you please tell the captain," she said, “that I would rather have four engines and three priests." یہ لطیفہ دور جدید کے ایک اہم پہلو کو بتاتا ہے ۔ موجودہ زمانہ مشینی زمانہ ہے۔ آج ہر چیز کا تعلق مشین سے ہو گیا ہے، خواہ سفر کرنا ہو یا گھر کے اندر کھانا پکانا یا اشیاء صرف کو تیار کرنا ہو ۔ قدیم روایتی دور میں ان چیزوں کے لیے مشینی ماہرین کی ضرورت نہیں ہوئی تھی ۔ آج ہر چیز کا تعلق مشینی ماہرین سے ہو گیا ہے ۔ یہی صورت حال ہے جس نے موجودہ زمانہ میں مذہبی طبقہ کی اہمیت گھٹا دی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page