Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

حج کا سفر

Urdu book, p. 74

By Maulana Wahiduddin Khan

مگر ہمارے یہاں جو باہر کے مسلمان آ رہے ہیں وہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر جھگڑتے ہیں۔ مثلاً جاپانی کھانا کھاتے ہوئے بائیں ہاتھ کو استعمال کرتا ہے ، اس پر یہ لوگ سخت اعتراض کرتے ہیں وغیرہ یہ چیز جاپانیوں کے عمومی اسلام کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ جاپانی بنیادی طور پر سادہ، حقیقت پسند اور الفاظ سے زیادہ معانی پر دھیان دینے والا ہوتا ہے۔ اس لئے فطری اسلام اس کو بہت زیادہ اپیل کرتا ہے۔ مگر امام اور واعظین جس اسلام کی نمائندگی کرتے ہیں وہ جاپانیوں کے لئے ناقابل قبول نہ ہو سکے گا۔ ۲۶ دسمبر ۱۹۸۴ کو ندوة السیرة النبویہ کے نام سے ایک اجتماع یہاں کی ایک بڑی مسجد میں ہوا جو جمیعتہ الدعوة کی مسجد کے نام سے مشہور ہے۔ اس اجتماع میں سیرت کے مختلف پہلوؤں کے بارہ میں مقالات پڑھے گئے اور ان پر سوال وجواب ہوا۔ یہ سیرت کے عام جلسوں کے برعکس ایک خالص علمی اجتماع تھا۔ اکثر اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ اس میں شریک تھے۔ مگر مجھے ایسا محسوس ہوا کہ لوگوں نے زیادہ محنت کر کے مقالات نہیں لکھے۔ متعلقہ موضوع سے متعلق جس کے دماغ میں جو کچھ تھا اس کو اس نے لکھ لیا اور یہاں آکر پڑھ دیا۔ سیرت کے موضوع پر بے شمار کتابیں اور مقالات لکھے جاچکے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ سیرت پر ابھی بہت کچھ لکھنا باقی ہے۔ مگر سیرت کے بقیہ پہلو اسی وقت کھولے جا سکتے ہیں جب کہ اس کے لئے کافی محنت کی جائے۔ یہاں دنیا بھر سے مختلف ملکوں کے لوگ آئے ہوئے ہیں۔ تقریباً ہر جگہ کے لوگوں نے بتایا کہ غیر مسلموں میں دین کی اشاعت کے کافی امکانات ہیں۔ امریکہ کے ایک صاحب نے بتایا کہ امریکہ کے لوگ بے حد غیر جانبدارانہ انداز سے چیزوں کو دیکھتے ہیں اور جب کسی چیز کو پکڑ لیتے ہیں تو پھر اس کو چھوڑتے نہیں۔ یہ امریکی قوم کا مزاج ہے۔ اس لئے امریکہ میں اگر اسلام پھیلایا جائے تو یہ ہمارے لئے بہت زیادہ تقویت کا باعث ہو۔ مگر ہر جگہ کے لوگوں کی یہ مشترک شکایت تھی کہ جدید ضرورتوں کے لحاظ سے ہمارے پاس اسلامی لٹریچر موجود نہیں۔ امریکہ کے ایک نوجوان جو اس اجتماع میں شریک تھے، ان سے اکثری امور پر باتیں ہوتی رہیں ۔ ان کا ذہن دعوتی سے زیادہ قومی تھا۔ ان سے میں نے کہا کہ آپ دوسری قوموں کو ظالم اور مسلمان کو مظلوم بتاتے ہیں۔ مگر میرا خیال یہ ہے کہ صورت حال اس کے برعکس ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلمان ظالم ہیں اور دوسری قومیں مظلوم۔ دوسری قومیں ہم سے اگر ہماری دنیا چھین

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page