Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

حج کا سفر

Urdu book, p. 76

By Maulana Wahiduddin Khan

زمانہ میں اسلامی دعوت کے زبردست امکانات پیدا ہوگئے ہیں۔ ان امکانات سے بھرپور فائدہ اٹھانا وہ سب سے اہم کام ہے جس پر ہمیں سب سے پہلے اور سب سے زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ عام عرب کتابی عربی سے ایک ہندوستانی عالم سے کم واقف ہوتا ہے۔ چنانچہ ایک بار میں نے گفتگو کے دوران بالقوة کا لفظ استعمال کیا تو عرب انٹروڈیور اس کو سمجھ نہ سکا۔ اس کے بعد میں نے انگریزی لفظ Potential کہا تو وہ اس کی سمجھ میں آگیا۔ طرابلس میں بڑی تعداد میں غیر عرب مسلمان مقیم ہیں۔ ان مسلمانوں کے کئی اجتماعات ہوئے جن میں میری تقریر ہوئی۔ لوگوں نے نہایت غور سے باتیں سنیں اور دینی جذبات کا اظہار کیا۔ میرٹھ کا فرقہ وارانہ فساد ابھی حال میں ہوا تھا اس لئے کچھ لوگوں نے میرٹھ کے مسلمانوں کا حال پوچھا۔ میں نے کہا کہ میرٹھ کے مسلمان جس حال میں ہیں ٹھیک ہیں۔ آپ تو اپنی فکر کیجئے۔ کیونکہ ہر آدمی پر ایک روز میرٹھ، گزرنے والا ہے۔ موت اور موت کے بعد قیامت، یہ سب سے بڑا میرٹھ“ ہے۔ لوگ دوسروں کے میرٹھ کو جانتے ہیں۔ مگر اپنے میرٹھ کی کسی کو خبر نہیں۔ ہمارے جو رہنما بیرونی ملکوں میں جاتے ہیں اور وہاں سے کامیاب ہو کر لوٹتے ہیں وہ اکثر ملت کی بربادی کے نام پر یہ کامیاب حاصل کرتے ہیں۔ اگر آپ لوگوں کے سامنے مسلمانوں کی مظلومیت کو بڑھ چڑھا کر بیان کریں۔ جذباتی انداز میں تقریریں کر کے لوگوں کو اکسائیں تو آپ کو کثرت سے ایسے لوگ ملیں گے جو پر جوش انداز میں آپ کا تعاون کریں۔ لیکن اگر آپ دعوت دین کے لئے لوگوں کو ابھارنا چاہیں تو ایسا معلوم ہوگا گویا آپ اسٹیج کی بستی میں بول رہے ہیں جو نازک ترین بات پر بھی سننے اور تڑپنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ یہ صورت حال تمام عالم اسلام میں ہے۔ آپ قوم کی بربادی کے نام پر لوگوں سے عظیم تعاون حاصل کر سکتے ہیں۔ مگر دین حق کی پیغام رسانی کے لئے کہتے توان کے اندر اس کام میں حصہ لینے کے لئے کوئی جذبہ نہیں بھڑکتا۔ قومی مصائب کے لئے پرجوش ہونا اور دین کی دعوت کے معاملہ میں بے حس بنا رہنا اسلام نہیں ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مسلمان آج جس مذہب پر قائم ہیں وہ قومی مذہب ہے نہ کہ خدائی مذہب۔ پھر قومی مذہب پر ہم کو وہ انعامات کیسے مل سکتے ہیں جو صرف خدائی مذہب اختیار کرنے پر مقدر کئے گئے ہیں۔ ۳۱ دسمبر کی شام کو ایک صاحب کے گھر پر نشست ہوئی۔ تعلیم یافتہ لوگ جمع تھے۔ میں نے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page