حج کا سفر
Urdu book, p. 79
By Maulana Wahiduddin Khan
اس میں ہر چیز کا ذکر ہے مگر فاطر کا کوئی ذکر نہیں ـــــــــ وہ کہانی بھی کیسی عجیب کہانی ہے جس سے اس کے ہیرو کو حذف کر دیا گیا ہو۔ یہاں نماز کے وقت ٹیلی وژن سے اذان نشر ہوتی ہے۔ ایک روز میں نے مغرب کے قریب کمرہ کا ٹیلی وژن کھولا تو نہایت عمدہ عربی آواز میں اذان کی آواز آنے لگی۔ اذان کے وقت ٹیلی وژن اسکرین پر موذن کی تصویر نہیں آرہی تھی، بلکہ قدرت کے مختلف مناظر ایک کے بعد ایک دکھائے جارہے تھے ۔ عمدہ تصویر میں چیزیں اصل سے زیادہ حسین نظر آتی ہیں۔ چنانچہ رنگین ٹیلی وژن پر فطرت کے مناظر عجیب پر کیف معلوم ہو رہے تھے ۔ آبشار کا بہنا، سبزہ کا لہلہانا، دریا کی روانی، چڑیوں کا چہکنا، پہاڑ کی بلندی، پھولوں کی قطاریں، غرض مختلف قسم کے مناظر فطرت بے حد سحر کن اندازے میں سامنے آرہے تھے ۔ اس کے بعد جب موذن نے کہا حیی علی الفلاح (آؤ کامیابی کی طرف) تو ایسا معلوم ہوا جیسے جنت کی ایک جھلک دکھا کر کہا جا رہا ہو کہ یہ ہے خدا پرستی کا بدلہ۔ خدا کے سچے پرستار بن جاؤ اور خدا کی حسین جنت میں اپنے لئے جگہ حاصل کر لو۔ ۲۶ دسمبر کی دوپہر کو مبجر جلوہ سے ملاقات تھی۔ قصر الشعب کے خصوصی کمرہ میں ملاقات کا انتظام کیا گیا تھا۔ انھوں نے عربی زبان میں ایک مفصل تقریر کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کا اصل کام دعوت اسلامی کا کام ہے ۔ اور ہم نے خالص دعوتی کام کے لئے یہ تنظیم قائم کی ہے۔ اس سے مقصود کوئی سیاست نہیں ہے ۔ وہاں سے واپسی میں کچھ تاخیر ہوئی ۔ میں اپنے ہوٹل کے کمرہ میں واپس پہنچا تو کمرہ کی چھوٹی میز میں ہدایتی بلب جل بجھ رہا تھا۔ یہ اس بات کی علامت تھی کہ میرے نام کوئی پیغام استقبالیہ کے دفتر میں موجود ہے ۔ میں نیچے گیا تو انھوں نے ایک نوٹ میرے حوالے کیا، اس میں لکھا تھا : The Indian Ambassador has telephoned and wants to see you (طرابلس میں ہندستان کے سفیر نے آپ کو ٹیلی فون کیا ہے اور وہ آپ سے ملنا چاہتے ہیں) اس کے بعد میں نے ٹیلی فون پر سفیر ہند (مسٹر ارجن اسرانی) سے بات کی۔ اگلے دن موصوف کی طرف سے دوسرا ٹیلی فون ملا کہ وہ اپنی رہائش گاہ پر میرے لئے شام کے کھانے کا انتظام کر رہے ہیں۔ تاہم یہاں میرے پروگرام کچھ اس قسم کے تھے کہ میں سفیر موصوف کے لئے مزید کوئی وقت نہ نکال سکا اور اس احساس کے ساتھ واپسی ہوگئی کہ میں موصوف کی دلچسپ باتیں سننے سے محروم رہا۔ دو عربوں سے باتیں کرتے ہوئے ایک بار میں نے 'نُحْجُر (پچنگی)' کا لفظ استعمال کیا۔ وہ سمجھ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader