Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

حج کا سفر

Urdu book, p. 90

By Maulana Wahiduddin Khan

یہاں ملایشیا کے ایک صاحب ملے، انہوں نے بتایا کہ الاسلام وتحدی کا ترجمہ ملائی زبان میں بھی شائع ہو چکا ہے۔ مالدیپ میں اردو جاننے والے بھی ہیں۔ چنانچہ کئی ایسے لوگ ملے جنہوں نے بتایا کہ وہ الرساله منگاتے ہیں، اور میری اردو کتابیں پڑھے ہوئے ہیں۔ ہندستانی سفارت خانہ کے سکریٹری مسٹر نائر میرے کمرہ میں آئے اور معلوم کیا کہ کیا مجھے کوئی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے لائق جو بھی خدمت ہو ہم اس کو کرنے کے لئے تیار ہیں۔ میں نے شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس وقت مجھے کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ مالدیپ کے نوجوان پوسٹ ماسٹر (مالک عبدالرزاق صاحب) تقریباً دو سال پہلے دہلی آئے تھے اور وہاں میرے دفتر میں مجھ سے ملے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ میں خود تو اردو نہیں جانتا مگر میرے دادا اچھی اردو جانتے ہیں۔ اور وہ آپ کی کتابیں بہت شوق سے پڑھتے ہیں۔ میں یہاں آیا تو مجھے ان سے ملنے کی خواہش تھی۔ مگر میں دونوں صاحبان کا نام بھول گیا۔ کچھ لوگوں سے ذکر کیا تو انہوں نے دریافت کرکے معلوم کیا اور مجھ سے ملاقات کا انتظام کیا۔ ان کا نام و پتہ یہ ہے ۔ Mr Abdul Wahab, Dhaharage, Machangoli, Male, Maldives عبدالوہاب صاحب مطالعہ کا بہت شوق رکھتے ہیں۔ اور خاص طور پر دینی کتابیں بہت پڑھتے رہتے ہیں۔ ان کو ولا میری کتاب (علم جدید کا چیلنج) ملی تھی۔ اس کے بعد انہوں نے بقیہ کتابیں حاصل کیں۔ مالدیپ میں چوری، قتل ، رشوت ، آپس کے لڑائی جھگڑے وغیرہ بالکل نہیں ہیں۔ حتی کہ مالے کے سوا کسی اور جزیرہ پر کوئی پولیس پوسٹ بھی نہیں۔ یہاں کے باشندے عام طور پر بالکل پر امن طریقہ پر رہتے ہیں۔ البتہ سیاحوں کی آمد سے کچھ مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ مثلاً لڑکیوں کی آزادی ، مہنگائی، معیار زندگی میں تبدیلی ، تنخواہوں میں اضافہ وغیرہ ۔ مالدیپ کا دارالسلطنت جس جزیرہ پر قائم ہے اس کا نام مالے ہے۔ یہ صرف دو کلومیٹر مربع رقبہ میں ہے۔ وسیع سمندر کے درمیان اس قسم کے چھوٹے چھوٹے جزیروں کی کوئی حقیقت نہیں ۔ اگر یہاں جوار بھاٹا آئے تو ان جزیروں پر انسانی آبادی کا کوئی وجود نہ رہے۔ مگر قدرت کا یہ عجیب قانون ہے کہ اس قسم کے چھوٹے جزیروں پر جوار بھاٹا نہیں آتا۔ اگر آپ جزیرہ سے ایک

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page