لندن میں چند روز
Urdu book, p. 93
By Maulana Wahiduddin Khan
ڈال حاصل کر چکی ہے۔ ہندوستان کے مسلمانوں کا خیال ہے کہ ملک کی آزادی میں انہوں نے قائدانہ کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے بطور خود اپنے قائدین کے ناموں کے ساتھ بڑے بڑے سیاسی الفاظ لکھ رکھے ہیں۔ رئیس الاحرار، بطلِ حریت، شیخ الہند، امام الہند، وغیرہ۔ مگر ہمارے اپنے محدود خول کے باہر عالمی سطح پر جو تاریخ مرتب ہو رہی ہے اس میں سارا مقام ان لوگوں کو مل رہا ہے جن کے۔ نام کے ساتھ اس قسم کے شاندار القاب شامل نہیں ۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے غصہ اور جھنجھلاہٹ کی کم از کم ایک وجہ یہ بھی ہے۔ ہماری جھنجھلاہٹ دراصل ہماری خوش خیالیوں کی قیمت ہے۔ اگر آپ فرضی طور پر اپنے آپ کو بڑا سمجھ لیں اور دنیا آپ کی بڑائی کو نہ مانے تو اس کے بعد جو واقعہ ہو گا وہ یہی ہے کہ آپ دوسروں کو عدم اعتراف کا ملزم قرار دے کر دوسروں سے نفرت کرنے لگیں گے ۔ پچھتر اپر سن صرف ایک کی ہے۔ مگر خوش خیالی ایک جرم ہے جس کی فرد اور قوم دونوں کو بہت مہنگی قیمت دینی پڑتی ہے۔ دہلی سے میں فجر کی نماز پڑھ کر چلا تھا۔ اور ظہر اور عصر کی نمازیں میں نے لندن پہنچ کر ادا کیں ۔ حالانکہ دہلی سے لندن کا سفر تقریباً چودہ گھنٹہ کا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دہلی اور لندن کے اوقات میں تقریباً ۵ ۱۲ گھنٹے کا فرق ہے ۔ دہلی والوں کے لئے دن بڑا نہیں ہوا۔ اور نہ وہ لندن والوں کے لئے بڑا ہوا۔ البتہ میرے لئے بڑا ہو گیا ۔ کیونکہ میں دہلی کی فضا سے نکل کر اسی دن لندن کی فضا میں پہنچ گیا۔ جہاں شام کا وقت دہلی کے مقابلہ میں ۵ ۱۲ گھنٹہ بعد آتا ہے۔ ایک شخص دہلی سے نکلے اور اسی دن وہ لندن پہنچ جائے تو قدرتی طور پر اس کے لئے اس وقت بھی دن ہو گا جب کہ دہلی والوں کے لئے شام آچکی ہوگی۔ یہ ایک علامت ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس دنیا میں خدا نے اتنے زیادہ امکانات رکھے ہیں کہ یہاں یہ بھی ممکن ہے کہ آپ اس وقت بھی اجالے میں ہوں جب کہ دوسروں پر رات کا اندھیرا چھا چکا ہو۔ جہاز کے اندر لندن کا اخبار ڈیلی گراف پڑھنے کو ملا۔ اس کا روزانہ ایڈیشن ۲۸ صفحات پر مشتمل ہوتا ہے اور سنڈے ایڈیشن ہم صفحات پر۔ ڈیلی ٹیلی گراف (۲۲ مارچ ۱۹۸۳) میں یہ خبر درج تھی کہ ایک مسلم خاتون (مسٹر محمودہ پٹیل) جن کی عمر ۳۰ سال ہے انہوں نے اپنے ایک مرض کے سلسلے میں لندن کے ایک ڈاکٹر کا علاج کرایا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader