ایک سفر
Urdu book, p. 9
By Maulana Wahiduddin Khan
وقت کی سمت کے خلاف چلنا بھی سفر ہے، اور وقت کی سمت کی طرف چلنا بھی سفر ۔ مگر نتیجہ کے اعتبار سے دونوں میں اتنا فرق ہو جاتا ہے کہ ایک شخص اگر ۲۰۰ میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہا ہو تو دوسرے کے سفر کی رفتار ۸۰۰ میل فی گھنٹہ تک پہنچ جائے گی ۔ لیبین ایرویز کا مخفف ایل اے (L.A) ہے۔ اس سلسلہ میں بعض لیبیون کے درمیان ایک لطیفہ مشہور ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ ایل اے کا مطلب ہے Late Always . ان کا کہنا ہے کہ لیبین ائیر لائنز کے جہاز اکثر کافی لیٹ رہتے ہیں۔ مگر موجودہ سفر میں وہ تقریباً صحیح وقت پر پہنچا۔ اس دنیا میں ہر عموم میں استثناء ہے اور ہر استثناء میں عموم۔ لیبیا کے پاس دولت کی افراط ہے ، اس کے باوجود لیبین ائیر لائنز خستہ حالت میں ہے ۔ اس کے پاس جہازوں کی بے حد کمی ہے۔ موجودہ جہاز پرانے ہو چکے ہیں۔ فاضل پرزے نہ ہونے کی وجہ سے ان کی مرمت سخت مشکل ہو رہی ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ امریکہ نے لیبیا کو جہازوں کی سپلائی بند کر دی ہے۔ دوسری طرف خلیج کی ہوائی کمپنیاں نہایت اچھی حالت میں ہیں۔ کیونکہ امریکا ان کے اوپر اپنی مشینی عنایتیں جاری کئے ہوئے ہے۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے جو مسائل ہیں، ان کا سبب اغیار کا ظلم و تعصب نہیں ۔ اس کا اصل سبب مسلمانوں کی یہی پس ماندگی ہے۔ موجودہ مسلمان ہر جگہ پانے کی حد (Receiving ena) پر ہیں۔ اور جن لوگوں کا یہ حال ہو جائے ان کا انجام وہی ہوگا جو اس وقت ساری دنیا میں مسلمانوں کا ہو رہا ہے۔ موجودہ حالت یہ ہے کہ افغانستان میں امریکہ نے ہتھیار دیا تو اس کی مدد سے افغانی مجاہدین نے روسیوں کو ملک سے نکل جانے پر مجبور کر دیا۔ فلسطین میں امریکہ مدد نہیں کر رہا ہے تو وہاں عرب مجاہدین اور سارا عالمِ اسلام نصف صدی سے بالکل عاجز ثابت ہو رہا ہے۔ پاکستان کو امریکہ نے اپنی سرپرستی میں لے رکھا ہے تو وہاں خوش حالی ہے۔ بنگلہ دیش کو امریکہ نے نظر انداز کر دیا تو وہ بد ترین بدحالی کی تصویر بنا ہوا ہے۔ مسلمان اس وقت ساری دنیا میں "حبل من الناس" کے تحت جی رہے ہیں نہ کہ "حبل من الله" کے تحت (آل عمران ۱۱۲) ۲۴ ستمبر ۱۹۸۹ کو میں طرابلس پہنچا۔ یہاں میرا قیام فندق باب البحر کمرہ ۹۳۰) میں تھا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader