Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 107

By Maulana Wahiduddin Khan

موجودہ دنیا میں بظاہر حقیقی ترتیب بدلی ہوئی نظر آتی ہے۔ کہیں اول درجہ کا آدمی پیچھے ہے اور تیسرے درجہ کا آدمی آگے ۔ اہل شخص بے زبان ہوا ہے اور نا اہل لوگ اخبار اور اسٹیج پر نمایاں ہو رہے ہیں ۔ مستحق لوگ ناداری میں پڑے ہوئے ہیں اور غیر مستحق افراد ہر قسم کے وسائل پر قابض ہیں۔ یہ گویا مصنوعی ترتیب ہے جو موجودہ دنیا میں قائم ہو گئی ہے ۔ آخرت میں خدا ظاہر ہو کر اس ترتیب کو ختم کر دے گا۔ وہ نمبر ایک کو نمبر ایک پر کر دے گا اور بقیہ نمبر والوں کو ان کے حقیقی نمبر کی طرف جانے پر مجبور کر دے گا۔ کھانے کے وقت ایک بار سینگال کے ایک صاحب میری میز کی دوسری طرف تھے۔ انھوں نے اپنے ملک کے بارہ میں بہت سی باتیں بتائیں۔ ایک دلچسپ بات یہ تھی کہ یہاں ایک درخت پایا جاتا ہے۔ اس کی پتی کو چائے کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ وہ نہ صرف ایک مشروب ہے بلکہ وہ نہایت مفید ہے (اوراق تقلی وتلشرب کا لشای و هى مفيدة جدا) مشہور ہے کہ ایک شخص نازک بیماری میں مبتلا تھا۔ علاج سے وہ اچھا نہیں ہوا۔ ایک روز وہ گھبرا کر بستی کے باہر چلا گیا اور اس نے مذکورہ درخت کی بہت سی پتی کھائی۔ اگلے دن اسے اپنے مرض میں افاقہ محسوس ہوا۔ اس کے بعد وہ مزید کچھ دنوں تک اس کی پتی کھاتا رہا۔ یہاں تک کہ وہ بالکل تندرست ہو گیا۔ یہ قصہ مشہور ہوا تو لوگ اس درخت کی پتی کو مختلف صورتوں میں استعمال کرنے لگے ۔ اب اس کی مقبولیت کی بنا پر ایسے کارخانے بن گئے ہیں جہاں اس کی پتی کو پروسس کیا جاتا ہے اور اس کو پیک کرکے چائے کی طرح سپلائی کیا جاتا ہے۔ کھانے کے بعد میرے ساتھی نے کافی منگائی۔ مگر میں نے اس مقامی مشروب کا آرڈر دیا۔ یہ کافی لطیف اور مفید تھا۔ میں جب تک یہاں رہا میں اس کو پیتا رہا۔ اس کا نام کن کلی با (Kinkelibah) ہے ۔ اس کے پیکٹ پر حسب ذیل پتہ لکھا ہوا تھا : Enterprise Senegalaise de, B.P. 10.101, Ouagou Niayes, Dakar, Senegal, West Africa. محمد مصطفیٰ سی (مفتش في تعليم اللغته العربية) نے بتایا کہ سینگال میں عیسائی اگر چہ بہت کم ہیں۔ پانچ فیصد سے بھی کم ۔ مگر یہاں چرچ بہت منظم ہے۔ یہاں کے بہترین اسکول ، اور اسپتال انھیں لوگوں نے قائم کر رکھے ہیں ۔ وہ مسلمانوں کو عیسائی بنانے کی بہت کوششیں کرتے ہیں۔ مگر اس میں وہ کامیاب نہیں ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page