ایک سفر
Urdu book, p. 109
By Maulana Wahiduddin Khan
اور آدھا حصہ پانی۔ یہ اس خیال کا اعادہ ہے جو حکما یونان کے زمانہ سے ابن خلدون تک چلا آ رہا تھا۔ مگر آج اسکول کا ایک طالب علم بھی جانتا ہے کہ نصف نصف کا یہ نظریہ درست نہیں۔ اصل یہ ہے کہ ہماری زمین کی سطح کے ۷۱ فی صد حصہ پر سمندر کا پانی پھیلا ہوا ہے اور بقیہ ۲۹ فی صد حصہ خشکی ہے۔ اس معلوماتی فرق کی بنا پر کچھ ترقی پسند لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اب انسان کو نئے مذہب کی ضرورت ہے۔ مگر یہ ایک لغو بات ہے۔ کیوں کہ مذہب کا تعلق اس مسئلہ سے نہیں ہے کہ زمین پر خشکی اور تری کا تناسب ۵۰۔۵۰ فیصد ہے یا ۷۱۔ ۲۹ فی صد۔ اس قسم کی معلومات کی کوئی حد نہیں۔ انسان نے جتنا آج جانا ہے، اس سے بہت زیادہ وہ ہے جس کو وہ ابھی تک جان نہ سکا۔ مثلاً بلیک ہول کا نظریہ بتاتا ہے کہ کائنات کا صرف تین فیصد انسان کے لئے قابل مشاہدہ ہے، بقیہ ۹۷ فیصد حصہ انسان کے لئے قابل مشاہدہ نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مذہب کا انحصار اس قسم کی معلومات پر نہیں ہے۔ مذہب کا اصل مقصد یہ ہے کہ آدمی خدا کی خالقیت اور مالکیت کو تسلیم کر کے اس کے آگے جھک جائے۔ اس اعتبار سے ہر دور کا مذہب صرف ایک ہے، اس میں زمانہ کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں۔ سینیگال کے عام لوگ مقامی بولی (الف) میں بات کرتے ہیں۔ تعلیم یافتہ لوگ یا فرنچ بولتے ہیں یا عربی زبان۔ یہ زبانوں کا فرق بھی بڑا عجیب ہے۔ مثلاً ہوٹل کے آدمی کو کلمہ ترحیب اگر اردو میں کہنا ہو ہو تو وہ کہے گا کہ ہم نو ووڈل میں آپ کا استقبال کرتے ہیں۔ اس بات کو انگریزی اور فرنچ میں اس طرح کہا جائے گا: We welcome you in Novotel. (English) Nous vous souhaitons la bienvenve Novotel (French) ایک مرتبہ میں سوچنے لگا کہ اگر ساری دنیا کی زبان ایک ہوتی تو کتنا اچھا ہوتا۔ پھر سمجھ میں آیا کہ کئی زبان ہونا ہی زیادہ بہتر ہے۔ کیوں کہ اس سے مسابقت کی تحریک ہوتی ہے اور ہر ایک آگے بڑھنے کی کوشش کرتا ہے۔ اور جب کسی آدمی میں آگے بڑھنے کا جذبہ ابھرتا ہے تو وہ صرف ایک معاملہ تک محدود نہیں رہتا۔ وہ زندگی کے دوسرے معاملات میں بھی اپنے آپ اپنا اثر ظاہر کرتا ہے۔ مثلاً

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader