ایک سفر
Urdu book, p. 139
By Maulana Wahiduddin Khan
ادائیگی کے بارہ میں تھی۔ اس کا عنوان تھا : جب شادی مفید ہوتی ہے (When marriage pays) اس میں بتایا گیا تھا کہ افراد عام طور پر یہ چاہتے ہیں کہ انھیں سرکاری ٹیکس کم سے کم ادا کرنا پڑے۔ موجودہ قوانین کے تحت اس کی ایک صورت نکاح ہے۔ ایک مستحکم اور پرمسرت ازدواجی زندگی کم سے کم ٹیکس ادا کرنے کی ایک پیشگی شرط ہے : A stable and happy marriage may be a prerequisite for paying the smallest amount of income and capital gains tax. مغرب میں غیر شادی شدہ ازدواجی زندگی گزارنے کا عام رواج ہو گیا تھا۔ اس کے نتیجے میں بے شمار سماجی خرابیاں پیدا ہوئیں۔ اب مغرب کے دانشور اپنے لوگوں کو اقتصادی محرک بتا کر انھیں ازدواجی زندگی کی طرف لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ موجودہ زمانہ میں تجربات نے ثابت کیا ہے کہ مذہبی طرز زندگی ہی صحیح طرز زندگی ہے۔ مگر اس کے باوجود ابھی تک مذہب کی عظمت جدید دور میں قائم نہ ہو سکی۔ اس کی وجہ مذہبی لوگوں کا داخلی زوال ہے۔ اہل مذاہب کے اخلاقی اور عملی زوال نے مذہب کی نظریاتی صداقت کی نفی کر رکھی ہے۔ اہل مذاہب کی عملی زبوں حالی مذہب کی نظریاتی عظمت کے اوپر ایک قسم کا پردہ بن گئی ہے۔ فرینکفرٹ سے دہلی کے لئے لفتھانسا کی فلائٹ نمبر ۷۰۷ کے ذریعہ روانگی ہوئی۔ یہ مسلسل ساڑھے سات گھنٹہ کی پرواز تھی۔ میں نے اپنے دہلی پہنچنے کا پیغام اگر چہ فیکس کے ذریعہ پہلے بھیج دیا تھا۔ تاہم مزید احتیاط کے لئے آج میں نے جہاز کے عملہ کو ایک پیغام لکھ کر دیا کہ اس کو دہلی کے ٹیلیفیون نمبر پر منتقل کر دیں۔ انھوں نے فوراً میرا کاغذ لے لیا اور کہا کہ یہ پیغام ہم اپنے دہلی کے آفس کو دوران پرواز بھیج دیتے ہیں۔ وہ دہلی میں آپ کے آفس کے ٹیلیفیون نمبر پر مطلع کر دیں گے۔ یہ ہوائی کمپنیوں کا عام دستور ہے۔ مسافر کی منزل پر اگر ہوائی کمپنی کا دفتر ہے تو وہ پرواز سے پہلے یا دوران پرواز مسافر کا پیغام بھیج دیتے ہیں۔ یہ سہولت صرف اس وقت ہے جب کہ منزل کے مقامی ٹیلیفیون نمبر پر مطلع کرنا ہو۔ مثلاً وہ میرا پیغام دہلی کے ٹیلیفیون نمبر پر بھیج سکتے ہیں۔ مگر وہ اس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader