Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 149

By Maulana Wahiduddin Khan

"فلم شو" کی صورت میں آپ کو یہیں دکھا دیا ہے۔ اس "فلم شو" کو دیکھنے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ یہ بھی اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ قرآن میں جنت کے بارہ میں کہا گیا کہ و أتوا به متشابها (البقره (۲۵) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کی چیزیں آخرت کی چیزوں کا تمثیلی تعارف ہیں۔ اسی کا ایک نمونہ یہ "فلم شو" بھی ہے۔ جدید تکنیک نے اس کو ممکن بنا دیا کہ "مسلم روس" کو واضح تصویروں کی صورت میں دہلی کے اندر پیشگی طور پر دیکھا جاسکے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے موجودہ دنیا کو اس طرح بنایا ہے کہ دیکھنے والی آنکھیں موت سے پہلے کی دنیا میں موت کے بعد والی دنیا کو پیشگی طور پر تمثیل کے روپ میں دیکھ سکتی ہیں۔ ۲۸ جولائی ۱۹۹۰ء کی شام کو روانگی ہوئی۔ دفتر سے نکل کر گاڑی پر بیٹھا تو دل سے بے اختیار یہ دعا نکلی: خدایا خیریت کے ساتھ لے جائیے اور خیریت کے ساتھ واپس لائیے۔ دنیا اور آخرت میں خیریت کا معاملہ فرمائیے۔ دہلی میں میں ۱٩۷۷ء سے ہوں۔ یہاں کی مانوس سڑکوں سے گزرتے ہوئے جب میں ایرپورٹ کی طرف جارہا تھا تو خیال آیا کہ زندگی نام ہے مانوس راہوں میں نامانوس سفر طے کرنے کا۔ خارجی ظواہریں اندرونی حقائق کو پالینے کا۔ جو لوگ صرف دیکھے کو جانیں انھوں نے نہیں دیکھا۔ جو لوگ اُن دیکھے کو پالیں وہی دراصل وہ لوگ ہیں جن کو جاننے والا کہا جائے۔ قرآن کے مطابق ، حیات دنیا کا ایک ظاہر ہے اور اسی کے ساتھ حیات دنیا کا ایک باطن ہے (الروم (۷) ایک مفسر نے اس آیت کی تشریح ان الفاظ میں کی ہے کہ انھوں نے چھلکے کو جانا اور وہ مغز کو نہ جان سکے وانهم عرفوا القشور ولم يعرفوا اللباب)، دنیا کے دکھائی دینے والے مناظر میں اللہ تعالیٰ نے نہ دکھائی دینے والی آخرت کی نشانیاں چھپادی ہیں۔ وہی لوگ حقیقی آنکھ والے ہیں جنھوں نے دکھائی دینے والی دنیا میں نہ دکھائی دینے والی آخرت کا مشاہدہ کر لیا۔ مغرب اور عشاء کی نماز ایرپورٹ پر وی آئی پی لاؤنج میں بڑھی۔ لاؤنج کے باہر دہلی کا موسم گرم تھا۔ مگر لاؤنج کے اندر مجھے سویٹر پہننا پڑا۔ ایئر کنڈیشننگ کے ذریعہ مصنوعی طور پر موسم کو بدل لینا بظاہر اچھی بات ہے۔ مگر یہ سہولت آدمی کو صرف اس قیمت پر ملتی ہے کہ وہ "نیچر" سے بے تعلق ہو جائے۔ اس کو ان فی مصنوعات کی خبر ہو ، مگر خدائی مصنوعات اس کے لئے لا معلوم چیز بن جائیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page