Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 152

By Maulana Wahiduddin Khan

لئے ایک خط لکھا جس پر ۹ دسمبر ۱۹۱ء کی تاریخ درج تھی۔ اس خط کا عربی ترجمہ نے المفتی ضیاء الدین خان بن ایشان بابا خان کی عربی کتاب الاسلام والمسلمون في البلاد السوفيتية میں دیکھا ہے (صفحہ ۸۶ - ۸۷) اس مصحف کے کچھ صفحات ضائع ہو گئے ہیں۔ موجودہ مصحف میں کل ۵۵۲ صفحات ہیں۔ ۱۹۲۳ تک وہ شہر ادفا میں تھا۔ ۱۹۲۳ میں اس کو خصوصی اہتمام کے ساتھ سمرقند لایا گیا اور شہر کی جامع مسجد خواجہ احرار میں رکھا گیا۔ ۱۹۴۳ اسے وہ ایک میوزیم میں ہے جو خاص اسی کے نام پر بنایا گیا ہے۔ تاشقند اس سوویت خطہ میں واقع ہے جس کو سنٹرل ایشیا کہا جاتا ہے۔ روس کے مشہور عالم المفتی ضیاء الدین خان بن ایشان بابا خان نے اپنی ۲۸۵ صفحہ کی کتاب (الاسلام والمسلمون في البلاد السوفيتية ) میں بتایا ہے کہ اسلام یہاں سب سے پہلے آذر بائیجان اور داغستان میں پہنچا۔ یہ خلیفہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں ساتویں صدی عیسوی کا واقعہ ہے۔ اس کے بعد اسلام پورے سنٹرل ایشیا میں پھیل گیا جو اس زمانہ میں ماوراء النہر کہا جاتا تھا۔ خلفاء بنی امیہ نے اس علاقے میں کثرت سے ایسے مسلمان بھیجے جو یہاں اسلام کی اشاعت کریں اور لوگوں کو قرآن اور عربی زبان کی تعلیم دیں۔ انھیں میں سے ایک قثم بن عباس بن عبد المطلب بھی تھے جن کی قبر آج بھی سمرقند میں موجود ہے۔ دسویں صدی عیسوی تک اس علاقہ کے قبائل بہت بڑی تعداد میں اسلام قبول کر چکے تھے۔ سنٹرل ایشیا سے اسلام کی زبردست تاریخ وابستہ ہے۔ اس علاقہ سے اسلام کی نہایت ممتاز اسلامی شخصیات اٹھیں۔ مثلاً محمد بن اسماعیل البخاری ، محمود الزمخشری ، ابو نصر الفارابی ، ابو علی بن سینا ، ابو عیسیٰ التر مندی ، وغیرہ۔ ۲۹ جولائی کی صبح کو ہمارا جہاز ماسکو ایئر پورٹ پر اترا۔ لینڈ نگ حیرت انگیز حد تک اسموتھ" تھی۔ جہاز کی خاتون اناؤنسر نے جب اعلان کیا کہ " اب آپ ماسکو میں ہیں" تو اچانک مجھے خیال آیا کہ اسی طرح ایک روز خدا کے فرشتے مجھے ایک سفر کرائیں گے اور منزل پر پہنچ کر اعلان کریں گے کہ " اب تم عالم آخرت میں ہو۔ ماسکو بھی میرے لئے ایک نئی دنیا ہے اور آخرت بھی میرے لئے نئی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page