ایک سفر
Urdu book, p. 170
By Maulana Wahiduddin Khan
امام اور موذن دونوں کوٹ اور پتلون اور ٹائی پہنے ہوئے تھے۔ مگر نماز کے وقت دونوں نے اوپر سے ایک خاص طرح کی لمبی عبا پہن لی۔ اور سر پر خاص طرح کی پگڑی رکھ لی۔ نمازیوں میں زیادہ تر بوڑھے عمر کے نظر آئے ۔ دو صفیں بھری ہوئی تھیں کل تقریباً ۶۰ نمازی تھے۔ مسجد کا نیچے کا حصہ خواتین کے لئے مخصوص ہے۔ گراؤنڈ فلور وسیع ہال کی صورت میں ہے۔ مسجد کے پورے حصہ میں قالین بچھا ہوا ہے۔ سنٹرل ہیٹنگ کا انتظام ہے۔ وغیرہ۔ اوپر کا حصہ بھی نہایت عمدہ اور خوب صورت ہے۔ نماز کے بعد امام صاحب نے میرا تعارف روسی زبان میں کرایا۔ چنانچہ تمام نمازیوں نے آ کر مجھ سے مصافحہ کیا اور دعائیں دیں۔ مسجد کے باہر تعمیرات ہو رہی تھیں اور تعمیری مشینیں کھڑی ہوئی تھیں۔ میں نے سمجھا کہ یہ مسجد سے باہر کوئی چیز بن رہی ہے۔ مگر معلوم ہوا کہ وہ مسجد کا حصہ ہے اور مسجد کے تحت بن رہا ہے۔ یہ جان کر بہت خوشی ہوئی۔ کیوں کہ وہ کافی بڑا تھا اور تعمیر کے بعد اس میں ایک بڑا مدرسہ قائم کیا جاسکتا تھا۔ ماسکو کی جامع مسجد کے امام اور خطیب کا نام راوی بن اسماعیل عین الدین تھا۔ وہ ابھی جوانی کی عمر میں تھے۔ مسجد سے ملا ہوا امام صاحب کا کمرہ جدید طرز کے دفتر کی مانند تھا۔ وہ کافی بڑا تھا۔ نشست میز کرسی پر تھی۔ ان سے میں نے پتہ لکھنے کو کہا تو انھوں نے دو ٹیلیفون نمبر کے ساتھ اپنا یہ پتہ لکھا : Ravil Gainoutdin, Imam Jama Masjid, Moscow, USSR Tel: 281-49-04, 281-38-66. سوویت روس کے موجودہ صدر میخائیل گورباچوف نے دو ایسے کام کئے ہیں جو کسی بھی موجودہ مسلم ملک میں ناقابل تصور ہیں۔ ایک، ساکھ کے سوال کو مکمل طور پر نظر انداز کر کے افغانستان سے روسی فوجیں واپس بلانا۔ دوسرے خود اپنے ملک کے نظام میں وہ تبدیلی لانا جس کو ایک دانشور نے انقلاب کو توڑنے (dismantling a revolution) سے تعبیر کیا ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ روسی قوم ایک بے حد جاندار قوم ہے۔ روس کے پاس، امریکہ کے بعد دوسرا سب سے بہتر جغرافیہ ہے۔ مگر پہلی عالمی جنگ کے بعد روسی قوم مسلسل زوال کا شکار ہوتی رہی۔ اسلحہ سازی کے سوا وہ کسی بھی دوسرے میدان میں ترقی نہ کرسکی۔ اس کی دو بڑی وجہیں تھیں۔ ایک مارکسی نظریہ کے تحت عالمی قیادت کا جنون۔ دوسرے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader