Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 172

By Maulana Wahiduddin Khan

ہیں ــــــــ امریکہ، جاپان، جرمنی، انگلینڈ، اٹلی، پاکستان، لیبیا، وغیرہ روسی میزبانوں کے سخت اصرار کے باوجود میں نے اپنا سفر مختصر کر دیا اور درمیان سے واپسی کا فیصلہ کیا۔ بالآخر وہ لوگ بھی راضی ہوگئے۔ اب مجھے ۳۱ جولائی کو ہوٹل چھوڑنا تھا۔ صبح کو فجر کی نماز پڑھی۔ نماز کے بعد ٹوٹے ہوئے دل کے ساتھ دعا کے لئے ہاتھ اٹھایا۔ میری زبان پر یہ الفاظ جاری ہوگئے : یا اللہ مجھے بخش دیجئے۔ آپ کے اس عاجز بندہ کو غیر جہنم بھی برداشت نہیں، پھر جہنم اس سے کیوں کر برداشت ہوگی۔ ایک ایسا انسان جوراحت کا بھی تحمل نہیں کرسکتا، وہ عذاب کا تحمل کس طرح کرے گا۔ یکم اگست ۱۹۹۰ء کو میں ماسکو ایئر پورٹ پر جہاز کے انتظار میں بیٹھا تھا۔ مختلف سرگرمیوں کے مناظر آنکھوں کے سامنے تھے۔ مختلف ملکوں کے عورت اور مرد آتے جاتے ہوئے دکھائی دے رہے تھے۔ اس دوران ایک لطیف تجربہ گزرا۔ دل کے احساس کو مرتم کرنے کے لئے آنکھوں نے روشنائی فراہم کی۔ ایک ربانی ارتعاش اندر سے نکل کر فضا میں مرسم ہوگیا۔ میں نے اپنے بیگ سے قلم اور کا غذ نکالا۔ میں نے چاہا کہ اس ربانی تجربہ کو انسانی الفاظ میں لکھوں۔ مگر پھر میں نے لکھنے کا خیال چھوڑ دیا۔ میں نے سوچا کہ لوگوں کا حال یہ ہے کہ کثیف حقیقتوں کو سمجھنا بھی ان کے لئے مشکل ہورہا ہے۔ پھر لطیف حقیقتوں کو آخر کون سمجھے گا۔ یہ تو وہ حقیقتیں ہیں جو صرف آنسوؤں سے لکھی جاتی ہیں اور دل کی دھڑکنوں سے پڑھی جاتی ہیں۔ مگر آج انسان کی سطحیت کا یہ عالم ہے کہ اس کے پاس نہ آنکھ کے آنسو ہیں اور نہ دل کی دھڑکنیں ۔ پھر کون ہے جو اس کو پڑھے اور کون ہے جس کے لئے اسے لکھا جائے۔ جہاز سازی کی صنعت کو ترقی دینے میں روس کا خاص حصہ رہا ہے۔ مثلاً روس نے پہلی بار کئی انجن والے جہاز (multi-engined plane) بنائے ۔ اس کا ڈیزائن سکور سکی (Sikorsky) نے تیار کیا تھا، اور وہ پہلی بار ۱۹۱۵ء میں کامیابی کے ساتھ اڑایا گیا تھا۔ روسی قوم کے اندر غیر معمولی امکانی صلاحیت ہے۔ کمیونزم کے جابرانہ نظام نے اس صلاحیت کے ظہور پر روک لگا دی تھی۔ اب امید ہے کہ روسی قوم دوبارہ ترقی کے نئے زینے طے کر سکے گی۔ یکم اگست ۱۹۹۰ء کی شام کو ایرو فلوٹ کی پرواز نمبر ۵۵ کے ذریعہ ماسکو سے دہلی کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page