Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

United Nations High Commissioner for Refugees

Urdu book, p. 228

By Maulana Wahiduddin Khan

قائم نہیں ہے۔ ان حضرات کے نزدیک سب سے پہلا اسلامی کام یہ ہے کہ خلافت کا قیام عمل میں لایا جائے۔ اس میں ان لوگوں پر تنقید کی گئی ہے جو "اصلاح افراد" کی بات کرتے ہیں۔ اس میں کہا گیا ہے کہ مجتمع کی اصلاح افراد کی اصلاح سے نہیں ہوتی بلکہ مجتمع کی اصلاح اس کے نظام کی اصلاح سے ہوتی ہے (ان اصلاح المجتمع لا يكون با صلاح افرا ده بل ان اصلاح المجتمع انما يكون باصلاح انظمته ) یہ مارکسی طرز فکر کو اسلام میں داخل کرنا ہے جس کو قرآن میں مضاهاة کہا گیا ہے۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے تمام انقلابی مفکرین اسی مضاہاۃ کا شکار ہوئے ہیں۔ مگر اسلام کے نزدیک اصل اہمیت فرد کی ہے۔ فرد کے اندر توحید اور آخرت کا شعور پیدا کرنا، یہی اصل اسلامی کام ہے ۔ بقیہ تمام چیزوں کی حیثیت ثانوی ہے۔ ورلڈ کونسل آف چرچز کے نام سے جینیو میں ایک ادارہ قائم ہے۔ فروری ۱۹۹۱ء میں اس کا ایک بڑا اجلاس آسٹریلیا میں ہونے والا ہے۔ اس میں ڈاکٹر مزمل حسین صدیقی کو خصوصی دعوت نامہ ملا ہے۔ میں نے دعوت نامہ کو دیکھا۔ اس میں اس کی ایک تقیم یہ بتائی گئی تھی جو میرے نزدیک نہایت درست تھی : The creation and perception of enemy images are among the ideological and psychological roots of militarism. امریکہ کے ایک بہت بڑے تاجر ہیں۔ ان کا نام Alfred Armand Montapert (مونٹاپرٹ) ہے۔ انھوں نے لاس اینجیلیز میں ۴۲ سال کی عمر میں ایک مزدور کی حیثیت سے کام شروع کیا۔ مگر ان کی حوصلہ مند طبیعت نے زندگی میں اوسط کامیابی (average success) پر راضی نہیں ہوئی۔ اس کے بعد انھوں نے تعلیم شروع کر کے الیکٹریکل انجینئر کی ڈگری لی۔ اس کے بعد وہ صنعت میں داخل ہوئے اور نصف درجن سے زیادہ بڑی کمپنیاں بنائیں۔ ہر آدمی کے اندر اعلیٰ ترین کامیابی حاصل کرنے کا بے پناہ جذبہ چھپا ہوا ہے۔ مگر خوش قسمت وہ ہے جس کو اللہ یہ توفیق دے کہ وہ دنیا میں "اوسط کامیابی" پر راضی ہو کر اپنے اعلیٰ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page