Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 24

By Maulana Wahiduddin Khan

اس حدیث میں علم سے مراد عام علم نہیں، بلکہ اس سے مراد دینی شعور یا معرفت حق ہے۔ یہ حدیث دراصل یہ بتاتی ہے کہ اسلام میں اصل اہمیت کس چیز کی ہے۔ اسلام میں اصل اہمیت کی چیز کیفیت (Quality) ہے۔ مجرد کمیت یا مقدار (Quantity) کی اسلام میں کوئی اہمیت نہیں۔ صبراتہ (Sabratha) دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ یہ ایک تاریخی شہر ہے جو طرابلس کے مغرب میں واقع ہے۔ اس کو قرطاجنہ والوں (Carthaginians) نے تجارتی مرکز کے طور پر چوتھی صدی قبل مسیح میں آباد کیا تھا۔ ۴۶ ق م میں یہاں رومی آئے۔ انھوں نے یہاں اپنا مشہور تھیٹر تعمیر کیا جس کے عظیم کھنڈراب بھی سمندر کے کنارے موجود ہیں۔ عربوں نے اس کو ۶۴۳ ء میں فتح کیا۔ یہ تھیٹر وہ مقام ہے جہاں رومی لوگ شاہانہ تفریح کیا کرتے تھے۔ آج اس کے ٹوٹے ہوئے کھنڈر صرف تاریخی عبرت کا سامان بنے ہوئے ہیں۔ شاید اسی طرح کی یادگاروں کے بارہ میں قرآن میں کہا گیا ہے کہ زمین میں چلو اور دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا انجام کیا ہوا (الانعام ۱۱) یہاں کے کچھ حضرات مجھ کو مالٹا لے جانا چاہتے تھے۔ یہ طرابلس اور روم کے درمیان ایک جزیرہ ہے۔ ان لوگوں کا خیال تھا کہ وہاں عرب نوجوانوں کا ایک اجتماع کریں اور اسلامی دعوت کے موضوع پر ان سے گفتگو کی جائے۔ مگر وقت کی کمی کی بنا پر میں ان لوگوں کی اس پیش کش کو قبول نہ کر سکا۔ آئندہ کسی موقع پر انشا اللہ مالٹا جانے کی کوشش کروں گا۔ کچھ لوگوں نے تیونس جانے کی بھی پیش کش کی۔ وہاں بہت سے عرب نوجوان الرسالہ کے مشن سے متاثر ہیں۔ وہ عربی اور فرانسیسی زبان میں الرسالہ کے مضامین کا ترجمہ شایع کر رہے ہیں۔ مگر اس سفر کے تحت میں تیونس کا پروگرام بھی نہ بنا سکا۔ انشا ء اللہ آئندہ کسی وقت وہاں جانے کی کوشش کروں گا۔ کچھ لوگ دمشق سے آئے تھے، وہ واپسی میں مجھ کو دمشق لے جانا چاہتے تھے۔ مگر میں اس فرمائش کو بھی پورا نہ کر سکا۔ تیونس میں ایک تاریخی شہر ہے جس کا نام سوسہ ہے۔ یہاں تاریخی یادگاریں ہیں جن کو دیکھنے کے لیے یورپ کے سیاح کثرت سے آتے ہیں۔ عبد المنعم محمد المناقوری (۲۱ سال) نے بتایا کہ وہ اگست ۱۹۸۹ میں سوسہ گئے۔ ان کے ساتھ جمعیۃ الدعوة کی طرف سے چھپی ہوئی انگریزی اور فرانسیسی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page