Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

سفرِ امریکہ ۶

Urdu book, p. 252

By Maulana Wahiduddin Khan

عالمی جنگ سے پہلے جاپانیوں کا عام خیال یہ تھا کہ شہنشاہ زندہ خدا (living god) ہے، اور وہ ان کا محافظ ہے۔ مگر دوسری عالمی جنگ میں جب جاپان کو شکست ہوئی تو ان کا یہ عقیدہ متزلزل ہوگیا۔ مزید یہ کہ خود شہنشاہ ہیرو ہیطونے یہ اعلان کر دیا کہ میں خدا یا خدا کا بیٹا نہیں ہوں، جاپانی اگرچہ اب بھی اپنے بادشاہ کو کامی (Kami) کہتے ہیں جس کے معنی خدا کے ہوتے ہیں ۔ مگر اب یہ لفظ صرف علامتی معنی میں بولا جاتا ہے نہ کہ حقیقی معنی میں۔ میں نے کہا کہ پہلے آپ لوگ اپنا حقیقی خدا رکھتے تھے، اب آپ لوگوں کے پاس صرف علامتی خدا ہے۔ اس کے جواب میں وہ مسکرا کر رہ گیا، اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔ ۷ اگست ۱۹۸۹ کو دہلی میں میری ملاقات ایک جاپانی صحافی کونیو نیشی (Kunio Nishi) سے ہوئی تھی۔ وہ ٹوکیو کے روزنامہ سیکائی نیپو (Sekai Nippo) کے رپورٹر کے طور پر دہلی آئے تھے اور مجھ سے ملے تھے۔ گفتگو کے دوران میں نے ان سے جاپانی شہنشاہ اور خدا کے عقیدہ کی بابت سوال کیا۔ انھوں نے جو کچھ کہا، اس کا خلاصہ خود ان کے الفاظ میں یہ تھا: The Emperor was "God" and respected by Japanese people before world war II. He was the supreme head in the old Japanese constitution. In the name of the Emperor the war against America and Britain was fought. But after the defeat in the war, Japanese people have been changed into behaving that the Emperor is simply a man. The New Con- stitution puts him as the symbolic head of Japan. Now the Emperor has no political power. الرسالہ مارچ ۱۹۷۷ء میں جاپان کی تاریخ کا ایک صفحہ نقل کیا گیا تھا۔ یہ بے حد عبرت ناک ہے۔ ۱۸۹۱ء کا واقعہ ہے۔ اس وقت جاپان میں شہنشاہ میجی (Meiji) کی حکومت تھی۔ برطانی استعمار کے زیر اثر جاپان میں مسیحیت پھیلنے لگی۔ مقامی مذہب میں اس کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہ تھی۔ مسیحی نے مسیحیت کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے چاہا کہ وہاں مسلمانوں کو بلائے۔ اس نے ترکی کے سلطان عبد الحمید ثانی کو خط لکھا کہ آپ کچھ مسلم علماء کو جاپان بھیجیں تاکہ وہ مسیحی مبلغین سے مناظرہ کریں اور یہاں کے لوگوں کے سامنے اپنا مذہب پیش کریں۔ سلطان عبد الحمید ثانی نے ترکی کے علماء (بشمول سید جمال الدین افغانی) کو دربار میں بلایا اور مشورہ کیا۔ مگر کسی بھی عالم نے اس پیش کش کو اہمیت نہ دی۔ وہ غیرضروری بحثیں کرتے رہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page