ایک سفر
Urdu book, p. 271
By Maulana Wahiduddin Khan
میں نے کہا کہ یسوع مسیح دنیا کے نجات دہندہ (Saviour of the World) تھے۔ انھوں نے کہا کہ جو انسان ، آپ کے بیان کے مطابق ، خود اپنے آپ کو یہودیوں اور رومیوں سے نہ بچا سکا ، وہ ساری دنیا کو کس طرح بچائے گا۔ اس طرح بحثیں ہوتی رہیں۔ یہاں تک کہ مجھ پر اسلام کی صداقت واضح ہو گئی اور میں نے اسلام قبول کر لیا۔ ۴ ستمبر ۱۹۹۰ کی صبح کو اس عالمی کانفرنس کا افتتاح ہوا اور ۸ ستمبر تک جاری رہا۔ اس کا شعار تھا ـــــــــ " الدعوة الإسلامية و آفاق المستقبل " اس کانفرنس میں مختلف ملکوں کے ۲۵۰ سے زیادہ افراد شریک ہوئے۔ یہ سب ۳۰ تنظیموں کے نمائندہ تھے۔ صدر جلسہ نے اپنی افتتاحی تقریر میں کہا کہ دنیا جو اس وقت مختلف بحرانوں سے گزر رہی ہے، وہ در اصل دین اسلام کی محتاج ہے جو کہ فی الواقع سچا دین ہے (ان العالم الذي يمر بازمات الآن هو في حاجة الى الاسلام لان الاسلام هو الدين الحقيقي)، تاہم بہت کم لوگوں نے اصل موضوع پر اظہار خیال کیا۔ زیادہ تر لوگوں کی تقریریوں کا رخ استعماری سازشوں اور صلیبی اور صہیونی حملوں کی طرف رہا۔ کانفرنس کی کارروائیاں ذات العماد کے ہال میں ہوئیں جو انتہائی جدید طرز پر بنایا گیا ہے۔ مگر تقریریں زیادہ تر تقلیدی انداز کی تھیں۔ ایک مقرر اپنی پر جوش تقریر کر کے اسٹیج سے اترے تو میں نے کہا کہ آپ لوگ " جدید طرز کے ہال میں قدیم طرز کی تقریر کر رہے ہیں۔" تقریروں اور مقالوں کی زبان عربی اور انگریزی تھی۔ موتمر میں بیش تر لوگوں نے جوش کے انداز میں تقریر کی۔ تا ہم بعض لوگ نہایت سنجیدہ نظر آئے۔ مثلاً یوگوسلاویہ کے دکتور احمد سلاویچ نے اپنی عربی تقریر میں کہا کہ موجودہ زمانہ میں کام کا بہترین طریقہ پر امن طریقہ ہے۔ ہم کو علمی اسلوب میں اپنا کام کرنا چاہئے ۔ ہم کو ٹکراؤ سے ہمیشہ پرہیز کرنا چاہئے۔ حتیٰ کہ اگر فریق ثانی ٹکراؤ شروع کرے تب بھی ہم کو ٹکراؤ سے بچ کر اپنا کام علمی اور دعوتی اسلوب میں جاری رکھنا چاہئے۔ ان کی تقریر مجھے پسند آئی۔ مگر خواہش کے باوجود الگ سے ان سے ملاقات نہ کر سکا۔ ایک صاحب کناڈا سے آئے تھے۔ انھوں نے اپنی انگریزی تقریر میں ایک بات کہی جو مجھے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader