Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 283

By Maulana Wahiduddin Khan

مطلقہ عورت کے حق میں یہ فیصلہ دیا کہ وہ اپنے سابقہ شوہر سے ماہانہ نفقہ حاصل کرنے کا حق رکھتی ہے۔ یہ فیصلہ ملکی قانون کے تحت دیا گیا تھا۔ مگر وہ شریعت کے خلاف تھا۔ علما نے اس کے خلاف خالص غیر سیاسی انداز میں ایک مہم چلائی۔ یہاں تک کہ حکومت نے نیا ایکٹ بنا کر مسلم مطلقہ عورتوں کو اس ملکی قانون سے مستثنیٰ قرار دیدیا۔ اسی پر امام حنبل کے معاملہ کو قیاس کیا جا سکتا ہے۔ ایک تجر بہ گزرا۔ اس کے بعد میری زبان پر بے اختیار یہ فقرہ آگیا ۔ آہ، وہ لوگ جو جہنم کے قابل بھی نہیں، مگر وہ امیدوار ہیں کہ ان کے لئے جنت کے دروازے کھولے جائیں گے۔ انہیں جنت کے باغوں میں داخل کیا جائے گا۔ ۲۸ ستمبر ۱۹۹ کو ایک واقعہ ہوا۔ اس کے بعد میں نے کچھ عرب نوجوانوں سے کہا کہ قرآن کا ایک اسلوب یہ ہے کہ ایک آیت میں بظاہر ہر ایک متعین بات کہی جاتی ہے۔ مگر وہ در اصل ایک کلیہ کا جزئی انطباق ہوتا ہے۔ مثلاً قرآن میں ہے : ما نسخ من آية او ننسها نأت بخير منها او مثلها (البقرہ ۱۰۶ ) ظاہر الفاظ کے اعتبار سے یہاں صرف نسخ آیت کا ذکر ہے۔ مگر وسیع تر معنوں میں وہ اللہ تعالیٰ کے ایک عمومی قانون کا بیان ہے۔ اور وہ یہ کہ اس دنیا میں جب بھی کسی صورت حال کو بدلا جاتا ہے تو اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اس کی جگہ کسی نئی بہتر صورت کو لایا جائے۔ اس اعتبار سے قرآن کی مذکورہ آیت کی تفسیر کی جائے تو وہ اس طرح ہوگی : ان الله سبحانه وتعالی اذا اراد ان يغير الاحوال فما يغيرها الا ويأتي بما هو احسن منه ۔ هذا هو الاسلوب الالهی۔ وکذالك فعل فی القرآن فقال (ماننسخ من آية او ننسها نأت بخير منها او مثلها) ایک مجلس میں کچھ واقف کار عربوں نے میری ذات کے بارے میں پوچھا۔ میں نے کہا کہ جو اسلامی مشن میں چلا رہا ہوں، اگر میں اس کو دریافت نہ کرتا تو میں زندہ نہیں رہ سکتا تھا۔ ایک صاحب نے اس کو سن کر پوچھا کہ اس کا سبب کیا ہے ۔ میں نے کہا کہ میں فطری طور پر ایک کمال پسند (perfectionist) آدمی ہوں۔ کمال سے کم (less than perfect) پر راضی ہونا میرے لئے ممکن نہیں۔ جب میں حسنِ شعور کو پہنچا تو میں نے اپنے آپ کو دو چیزوں کے درمیان پایا۔ ایک مادی دنیا۔ دوسرے تقلیدی مذہب، موجودہ دنیا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page